خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 310

خطبات طاہر جلد 15 310 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء (الدھر: 3) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سب سے بڑا احسان جو انسانی نفس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ دیکھو تم ماں کے پیٹ میں کس حیثیت میں تھے اندھے۔تین قسم کے اندھیروں میں گھرے ہوئے۔اب وہاں بھی دیکھو تین اندھیروں کا ذکر ملتا ہے اور اچانک کیا دیکھتے ہو کہ تم ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہو۔فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا اس بچے کو ہم نے سمیع بھی بنا دیا اور بصیر بھی بنادیا۔وہ سنے بھی لگ گیا اور دیکھنے بھی لگ گیا اور سمیع کو پہلے رکھا ہے اور بصیر کو بعد میں۔اس میں اور بھی حکمتیں ہیں مگر ایک یہ بھی ہے کہ ماں کے پیٹ سے بچہ پہلے سننا شروع کرتا ہے بعد میں دیکھنے لگتا ہے اور شروع میں ماں کے پیٹ میں بچے کا بیرونی دنیا سے رابطہ صرف کان کے ذریعے ہے اور جب باہر نکلتا ہے پھر آنکھیں کھلتی ہیں ورنہ پیٹ میں تو آنکھیں ہوں بھی تو دکھائی کچھ نہیں دیتا اندھے کا اندھا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا باہر آیا تو ہم نے اسے سنے والا بھی بنا دیا اور دیکھنے والا بھی بنادیا اور آواز کے ذریعے ماں کے پیٹ میں پیغام دینے کا نظام خدا تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے اسی لئے اس زمانے میں دعاؤں کا ذکر ہے ذکر الہی کا ذکر ہے کیونکہ بچہ ان باتوں کوسنتا ہے اور بسا اوقات جو ماحول میں شور پڑ رہا ہے اس سے بداثر قبول کرتا ہے۔ماحول میں پرسکون باتیں ہو رہی ہیں اس سے سکون حاصل کرتا ہے اور اب تو سائنس دانوں نے اس کی تحقیق کر کے اسے واہمے کا حصہ نہیں بلکہ ایک حقیقت میں سائنسی دریافت کا حصہ بنالیا ہے قطعی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے۔تو سَمِيعًا بَصِيرًا ہے یہ دو چیزیں ہیں جن کے ذریعے انسان تمام ماحول گردو پیش بلکہ بہت دور دور کی باتیں بھی اخذ کرتا ہے اور لیکن اگر اندر اس کے تجزیے کے لئے دماغ نہ ہو تو آنکھیں کھلی ہیں، کان موجود ہیں لیکن کہتے ہیں جی اس کا دماغ Dead ہو گیا ہے آکسیجن جانی بند ہوگئی اور وہ دماغ جس نے ساری کمپیوٹنگ کرنی تھی وہ کرنے سے عاری ہو گیا حالانکہ آنکھ دیکھ رہی ہے کان سن بھی رہے ہیں ان کا نتیجہ کو ئی نہیں نکل رہا۔وہی آنکھ اندھی نہیں ہوئی ہوتی بلکہ جو دیکھتی ہے اس کا پیغام اندر نہیں پہنچتا جو وہ کان سنتے ہیں اس کا کوئی مقصد دماغ حاصل نہیں کرتا کہ کیا سنا جا رہا ہے۔یہی نقشہ ہے قرآن کریم نے جو کھینچا ہے کہ پھر ایسے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اندھے ہو جاتے ہیں ، وہ بہرے ہو جاتے ہیں، ان کے دل مہر زدہ ہیں ان میں یہ صلاحیت ہی نہیں ہوتی کہ جو کچھ گردو پیش میں دیکھ رہے ہیں اس سے استفادہ کر سکیں۔