خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 312
خطبات طاہر جلد 15 312 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء ہیں کہ آپ کا حقیقی لطف کس چیز میں ہے۔دنیا کی دولت میں ہے یا اچھی پیاری باتوں کے تذکرے میں ہے۔خدا اور رسول کے ذکر میں آپ کو مزہ آ رہا ہے یا بے ہودہ باتوں میں۔ایسے لوگ اپنے بچوں کی تقدیر بنادیتے ہیں خواہ ان کا ارداہ ہو یا نہ ہو خود بخود بنتی ہے۔اب یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ہماری نئی نسل کے لئے اللہ تعالیٰ نے MTA کا نظام جاری فرما دیا اور اب وہ بگڑے ہوئے ماں باپ جن کی دلچسپیاں دوسری ہیں اپنے بچوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں یعنی منفی رنگ میں اثر انداز ہونے کی اور بچوں کو عادت پڑ گئی ہے احمد یہ ٹیلی ویژن کی۔اب ماں باپ دوسری لگانے لگیں تو کہتے ہیں نہیں بالکل نہیں لگانی ہم نے تو یہی دیکھنی ہے اور بعض ماں باپ کی اصلاح بچے شروع کر چکے ہیں۔تو یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے جب عالمی ذمہ داریاں ہم پر ڈالی ہیں تو عالمی ذمہ داریوں کے لئے تیار کرنے کے سامان بھی وہ خود فرما رہا ہے۔اور میں تو محض قرآن کریم کی نصیحتوں کی طرف اشارے کر کے آپ کو بار بار متوجہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں مگر مجھے دل میں یقین ہے کہ خدا کے ہاں آسمان پر یہ فیصلے ہو چکے ہیں۔اللہ کی یہ تقدیر خوب کھل کر ظاہر ہوگئی ہے کہ آج دنیا کی تقدیر جماعت احمدیہ سے وابستہ ہو چکی ہے اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دین اور آپ کی سنت کا غلبہ اب اگر دنیا میں ہوگا اور ضرور ہوگا تو جماعت احمد یہ ہی کی خاطر ہو گا جماعت احمدیہ کے وسیلے سے ہی ہوگا۔پس اپنے دل کو ہر قسم کی ظلمات سے پاک وصاف کر لیں تا کہ محمد مصطفی میں ﷺ کا نور جو آپ نے تمام تر خدا سے پایا ہے وہ ہمارے سینوں کو روشن کر دے، منور کر دے اور ہمیشہ کے لئے وہاں اپنی جگہ بنالے تا کہ ظلمات پھر ان سینوں میں جھانک بھی نہ سکیں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین