خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 309

خطبات طاہر جلد 15 309 خطبہ جمعہ 19 اپریل 1996ء نے بھی اپنی امت کے لئے کثرت کی دعا مانگی بلکہ نصیحت فرمائی کہ ایسی عورتوں سے شادی کرو جووَلُودًا وَدُودًا ہوں محبت بھی بہت کریں تم سے اور بچے بھی بہت پیدا کریں۔اس لئے بسا اوقات جب فیملی ملاقات میں میں اچھے خوش جوڑوں کو دیکھتا ہوں ان سے کہتا ہوں اور بچے پیدا کرو۔وہ سمجھتے ہیں میں مذاق کر رہا ہوں حالانکہ مذاق وذاق نہیں، میرے ذہن میں ہمیشہ یہی رسول اللہ ﷺ کی نصیحت ہے اور مجھے بھی خوشی ہوتی ہے احمدی بچے پیدا کر کے بھی بڑھیں اور تبلیغ کے ذریعے سے بھی بڑھیں اور خوب نشو و نما پائیں کیونکہ یہی تو ہیں جن کے ساتھ دنیا کا امن وابستہ ہو چکا ہے دنیا کا نیک انجام اب ان پر اپنی بناء رکھتا ہے۔یہ قائم رہیں گے تو دنیا کا نیک انجام قائم رہے گا، اس کی امیدیں قائم رہیں گی۔اگر یہ کمزور ہو گئے یہ مٹ گئے تو دنیا کے نیک انجام کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔پس اپنی قدروں کو جو اس آیت کے حوالے سے میں نے آپ پر کھولی ہیں ان کو پہچا نو اور ہر وہ اندھیرا جس کا ان آیات میں بیان ہوا ہے اس کے قلع قمع کرنے ، اس کو اپنے سینے سے نوچ پھینکنے کی کوشش شروع کر دو اور یہ تفصیل اس لئے میں بیان نہیں کر سکتا بعض پہلے خطبوں میں میں نے بسا اوقات تفصیل سے بھی یہ بیماریاں بیان کی ہیں اس لئے کہ اگر ایک دفعہ شروع ہو جائے تو یہ سلسلہ پھر ختم ہی نہیں ہو گا۔انسان کس کس قسم کی اندرونی روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے کیسی کیسی غلط فہمیاں اپنی ذات کے متعلق رکھتا ہے اپنی اولاد کے متعلق رکھتا ہے، اپنے پیاروں سے جو امیدیں۔وابستہ کر لیتا ہے، اپنے دشمنوں کے متعلق کیا کیا غلط رویے اختیار کرتا ہے، ایسا مضمون ہے جو ساری انسانی زندگی پر محیط ہے۔کس کس کو بیان کروں اور کس کس کو چھوڑوں۔اس لئے اصولاً میں نے آج آپ کے سامنے وہ خلاصہ پیش کر دیا ہے جو قرآن کریم نے نکالا ہے۔تین قسم کے اندھیرے ہیں جو اگر تم پر چھا گئے تو تمہارے کانوں پر بھی مہر لگ جائے گی ، تمہارے دلوں پر بھی مہر لگ جائے گی اور تمہاری آنکھوں پر پردے پڑ جائیں گے۔پھر دیکھ بھی نہیں سکو گے کہ تمہارا مفاد ہے کس چیز میں۔دیکھو گے بھی تو غلط فیصلے کرو گے کیونکہ قوت ادراک بیمار ہو چکی ہوگی۔دل وہ قوت ادراک ہے جوان پیغامات کو پرکھتا ہے اور ان سے نتائج اخذ کرتا ہے جو آنکھ یا کان کے سوراخ سے انسان کے اندر داخل ہوتے ہیں اور بھی ذرائع ہیں مگر یہی دو ہیں جن پر بناء ہے، اصل ہے فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا