خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 281
خطبات طاہر جلد 15 281 خطبہ جمعہ مورخہ 12 / اپریل 1996ء کی کہ انہوں نے امیر کے ایک حکم کو ٹالا اور اس کے مقابل پر ایک اڈہ بنایا اور یہ بحث شروع کی کہ ہم زیادہ حیح کہہ رہے ہیں تم غلط کہہ رہے ہو اور بعض دفعہ ایسے لوگوں کے معاملے کو خطبوں میں بھی مجھے خوب کھولنا پڑا اور بتانا پڑا کہ یہ بہت ہی نا قابل برداشت حرکت ہے۔کسی قیمت پر بھی میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ امیر مقرر ہو اور اس کی اطاعت سے تم بہانے بنا کر باہر نکلنے کی کوشش کرو۔یہ بحث بے تعلق ہے کہ اس کی بات درست ہے کہ تمہاری بات درست ہے۔اگر تمہیں اختلاف ہے تو ہر وقت اس کے خلاف اپیل کر سکتے ہو۔آپس میں باتیں کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ، آپس میں مشوروں کی کوئی اجازت نہیں۔اگر خلیفہ وقت کا بنایا ہوا امیر ہے تو لازم ہے کہ اس امیر کے متعلق اگر کسی حکم سے اختلاف ہو تو بالا افسروں یا خلیفہ وقت کو مطلع کرو اور جب تک اوپر سے فیصلہ نہ آ جائے اس کی اطاعت کرو۔یہ وہی پہلا سبق ہے جسے گزرے ہوئے چھ ہزار سال گزر گئے ہیں۔اس چھ ہزار سال میں حضرت داؤڈ کا زمانہ بھی گزر گیا ، نبیوں کے بعد نبی آئے مگر بعض انسان ایسے جاہل ہیں کہ ہمیشہ اسی مقام پر ٹھوکر کھاتے ہیں جہاں سب سے پہلے شیطان نے کھائی تھی۔یہ وہ اندھیرا ہے جو د یکھنے بوجھنے کے باوجود اور عَلَى عِلْمِ ہے اور علم ہی کا اندھیرا ہے۔ہمیشہ یہ سرکش لوگ کہتے ہیں ہمیں زیادہ علم ہے امیر تو بے وقوف آدمی ہے اس کی تو تعلیم ہی کوئی نہیں۔ہم لوگ صاحب علم لوگ ہیں ہم جانتے ہیں۔ہم دانشور ہیں یہ پاگل جیسا آدمی آپ نے بنا دیا امیر ہمارے اوپر ،اس کو کیا پتا کہ معاملات کیا ہوتے ہیں اس لئے ہمارے پیچھے لگے گا تو ہم مانیں گے ورنہ نہیں اور وہی دلیل ہے جو شیطان نے دی تھی اور رڈ کر دی گئی اور کبھی بھی ان کا کچھ نہ بنا۔ایسے لوگوں کونہ دنیا میں کبھی کامیابی ہوئی نہ آخرت میں کبھی کامیابی ہوسکتی ہے اگر اس طرز عمل کو جماعت میں برداشت کر لیا جائے تو ساری جماعت ظلمات کا شکار ہو جائے گی اندھیروں میں مبتلا ہو جائے گی۔جماعت کی طاقت کا راز اس اطاعت میں ہے جو فرشتوں نے دکھائی تھی۔جانتے تھے کہ یہ وہ وجود آنے والا ہے جس کے نتیجے میں خوب خون خرابہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں فسادات سے زمین بھر جائے گی۔یہ نہیں جانتے تھے کہ کیوں بھرے گی یہ معاملہ بعد میں ان پر کھلا جب شیطان نے بغاوت کی اور خدا کو یہ چیلنج دیا کہ میں تیرے بندوں کو کھینچ کر اپنی طرف لے جاؤں گا اور اس طرح ان پر حملہ آور ہوں گا کہ ان کو کچھ دکھائی نہیں دے گا کہ میں کہاں سے آ رہا ہوں۔ان کے دائیں سے بھی