خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 282
خطبات طاہر جلد 15 282 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء حملہ کروں گا بائیں سے بھی حملہ کروں گا آگے سے بھی پیچھے سے بھی اوپر سے بھی نیچے سے بھی اور تو دیکھے گا کہ سارے یہ لوگ بکھر گئے اور تجھے چھوڑ کر میرے پیچھے لگ گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیری یہ بات بھی جاہلانہ ہے جیسے پہلی بات جاہلانہ تھی۔جو میرا بندہ ہے اس پر تیرا کوئی اثر نہیں ہے۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اس لئے یہ خیال کہ انسان پیدا ہونے کے بعد خدا کا بندہ بن جاتا ہے یہ خیال ہی غلط ہے۔کثرت سے لوگ پیدا ہور ہے ہیں، بندے وہی ہیں جو گم مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةِ کے ہیں جن کے مقصد میں لکھ دیا گیا ہے کہ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً وہ تھوڑے ہونے کے باوجود ضرور غالب آئیں گے، ان میں غلبے کی طاقتیں بخشی گئی ہیں اور یہ بات امر الہی سے پیدا ہوتی ہے اس کے بغیر نہیں۔پس سب سے بڑا اندھیر انفس کا یہ اندھیرا ہے جو میں سمجھ رہا ہوں یہ اگر خدا کے منشاء سے ٹکراتا بھی ہو اور نظام جماعت سے مختلف فیصلہ بھی ہوتب بھی میں ٹھیک ہوں اور نظام جماعت غلط۔اس اندھیرے نے ہمیشہ لوگوں کو ہلاک کیا اور کچھ عرصے کے بعد یہ ٹولے جو بڑے بڑے سر اٹھانے والے تھے، جتھے بنانے والے، سازشیں کرنے والے، ان کا نام ونشان باقی نہیں رہا۔جس طرح ودھ سے مکھی کو نکال کے باہر پھینک دیا جاتا ہے خدا تعالیٰ نے ان کی برائیوں سمیت ، ان کی انا سمیت، ان کے بڑے بڑے دعاوی سمیت ان کے ٹولوں سے جماعت کو صاف ستھرا کر کے نتھار لیا اور اب ان کا حال دیکھو کہاں پہنچے ہیں۔کوئی ہے جو جماعت کے مقابل پر فتنے کے سراٹھانے کے بعد اس سر کو اپنے وجود پر قائم رکھ سکا ہو۔ان کی سرداریاں ہی ختم ہو گئیں۔وہ سب سرداریاں جماعت کی برکت تھی ، جماعت ہی کی وجہ سے عطا ہوئی تھیں اور ان ظالموں کو پتا نہیں لگا کہ ہم ہیں کیا ، ہماری حیثیت کیا ہے۔یہ جماعت کی برکت ہے جو ہمیں کچھ لوگ عزت سے خطاب کرتے ہیں اور ان عزتوں کو جماعت کے بعد ہم زندہ نہیں رکھ سکیں گے اور نہ کبھی رکھ سکے۔تو عزتوں کا معاملہ ہے تو قَوْلُهُمْ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (یونس: 66) عزت خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔انانیت سے کوئی عزت نصیب نہیں ہوسکتی۔تو نفس کو ” ھوی “ بنانے کی ایک وجہ اور اول اور غالب وجہ انا نیت ہے یا اپنے نفس کی عزت اور اسی کی ایک شکل تکبر ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ تکبر بھی اور یہ انانیت بھی دراصل ہمیشہ احساس کمتری سے پیدا ہوتے ہیں اگر چہ نظریہ آتے ہیں کہ یہ احساس برتری ہے۔وہ شخص جو جانتا ہے کہ