خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 280
خطبات طاہر جلد 15 280 خطبہ جمعہ مورخہ 12 اپریل 1996ء نہیں یہی بہتر ہے جو میں نے بنایا ہے لیکن بعد میں آزمائش ہوئی اور آزمائش اس طرح ہوئی کہ ایک دریا کو پار کرنے کے بعد مقابلہ ہونا تھا اور دشمن سے جو بہت بڑا اور طاقتور تھا۔اس سے اس قوم کی لڑائی ایک ایسی سرزمین میں تھی جو دریا پارتھی اور وہاں سے گزرتے ہوئے ان لوگوں کو پیاس بہت لگی ہوئی تھی۔اس پر خدا تعالیٰ کے حکم سے طالوت نے ان کو کہا کہ ایک دو گھونٹ یا ایک دو اوک یعنی چلو میں جتنا بھی پانی آتا ہے وہ پی لو تو اور بات ہے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے۔اب ان کو یہ بھی حکمت سمجھ نہیں آئی۔انہوں نے کہا نہیں یہ تو ہماری عقلیں مانتی نہیں۔اکثر ان میں سے وہ تھے جنہوں نے پی لیا اور جو تھوڑے تھے وہ بچ گئے اس بات سے، اب لطف کی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرنے والے وہ بھی تھے جو اس امتحان میں پورا اترے انہوں نے اپنی عقل کو استعمال کیا مگر فیصلہ خدا کا مانا اور وہ بھی تھے جو پہلے بھی اپنی عقل کو برتری دے رہے تھے ، فضیلت دے رہے تھے بعد میں جب موقع پیش آیا تو اس امتحان میں اسی لئے ناکام رہے کہ اپنے عقلی فیصلے پر قائم رہے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ اس پانی میں ضرور کوئی زہر تھایا کوئی تاثیر تھی ہوسکتا ہے گندہ پانی ہو جس کے نتیجے میں اسہال بھی لگ جاتے ہیں، پیچش بھی ہو جاتی ہے کئی قسم کے مخفی معاملات ہیں جن کا خدا کو علم ہے بندوں کو نہیں کئی ایسی بیماریاں لگ جائیں جس سے ہمت جواب دے جائے تو وہ جو بڑے لڑا کے بن کے نکلے تھے وہ کہتے تھے طالوت سے ہم زیادہ قابل ہیں ان سب نے یہ عذر رکھ کر لڑنے سے جواب دے دیا کہ دشمن بہت بڑا اور طاقت ور ہے اور ہم تھوڑے ہیں اور جو تھوڑے تھے جو خدا والے تھے وہ اور بھی تھوڑے رہ گئے اگر وہ سارے بھی لڑتے تب بھی تھوڑے تھے مگر جولڑے وہ اور بھی تھوڑے رہ گئے اور اس وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كثِيرَةً (البقرہ: 250) جس کا حکم ہے وہ کر کے دکھاتا ہے وہ طاقت ور ہے۔دیکھوکئی بار ایسا ہوا کہ تھوڑی سی معمولی جماعت نے ایک بڑی اور طاقتور جماعت کو شکست دے دی اور یہ ہمیشہ اس وقت ہوتا ہے جب امر الہی کو فوقیت دو اور اپنے نفس کو اس کے نیچے کر دو، اس کے بغیر نہیں۔مذہبی قوموں میں بھی غلبے کی جان اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور چمٹے رہتے ہیں۔جہاں اس سے سرکنے لگتے ہیں وہیں ان کی موت کا آغاز شروع ہو جاتا ہے۔بسا اوقات میں نے ایسے بعض لوگوں پر جو پرانے خدمت کرنے والے بھی تھے اس وجہ سے سختی