خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 152
خطبات طاہر جلد 15 152 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء جوانسان بیرونی نیکیوں سے محروم رہتا ہے تو بعض دفعہ غفلت اور بعض دفعہ موت حائل ہو جایا کرتی ہے، جہاں تک موت کا تعلق ہے وہ تو دوبارہ اس مردے کا جی اٹھنا ایک غیر معمولی روحانی وجود کو چاہتا ہے اسی لئے انبیاء کا سلسلہ جاری ہے۔انبیاء آتے ہیں تو پھر مردے زندہ ہونے شروع ہوتے ہیں۔جب وہ نہیں ہوتے تو بسا اوقات غفلت سے پردے اٹھانے کے انتظام تو دیگر بزرگ بھی کرتے ہی رہتے ہیں مگر مردوں کو زندہ کرنے کی توفیق شاذونا در کسی کو ہوتی ہے۔انبیاء وہ ہیں جو ان غفلتوں کے پردے چاک کر دیتے ہیں ، دبے ہوئے نوروں کو اٹھا دیتے ہیں ، آنکھیں کھلنے لگتی ہیں سوئی ہوئی جستیں جاگنے لگتی ہیں اور انسان پھر بیرونی نور سے رابطے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں کہ : جس کے آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے اور انبیاء من جملہ سلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے۔یہ مشکل الفاظ ہیں مگر جب بڑے مضمون کو کوزے میں بند کرنا پڑتا ہے تو پھر عام جو زبان ہے وہ متحمل ہی نہیں ہوتی اس کے لئے اعلیٰ درجے کی زبان جو عامتہ الناس کے لئے مشکل ہے اس کو استعمال کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہاں سلیس اردو لکھتے ہیں وہاں حیرت انگیز خود روی کے ساتھ وہ زبان چلتی ہے اور ساتھ پڑھنے والے کو بھی بہاتی چلی جاتی ہے۔جہاں بہت گہرے اور مشکل مضامین بیان ہونے ہوں وہاں آپ کی زبان اسی طرح مشکل ہو جاتی ہے اسے سمجھانا پڑتا ہے۔”سلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی مراد یہ ہے کہ تمام فطرت انسانی کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی حال ، ایک ہی صلاحیت ، ایک ہی حدود اربعہ کے ساتھ پیدا نہیں کیا۔فطرت انسانی نیک اور پاک تو ہے مگر کوئی چھوٹا ہے کوئی بڑا ہے۔کہیں کوئی کوزہ ہے کہیں کوئی وسیع دریا کے بہاؤ کا برتن ہے یا ظرف ہے جس میں دریا بہتا چلا جاتا ہے، کہیں وہ سمندر کا ظرف ہے جولا متنا ہی دکھائی دیتا ہے ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر دیکھو تو کچھ سمجھ نہیں آتی۔