خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 151

خطبات طاہر جلد 15 151 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء بیدار نہ ہو اس محنت کی طرف توجہ پیدا ہوہی نہیں سکتی۔اب دیکھیں دن میں پانچ مرتبہ ہم کھانا کھاتے ہیں یعنی ترقی یافتہ ملکوں میں پانچ دفعہ تو ضرور کچھ نہ کچھ منہ میں ڈالتے ہی رہتے ہیں اور اگر سارا دن پانچ دفعہ نہ کھائیں بلکہ دو دفعہ ہی کھائیں جس کو ہم روزہ کہتے ہیں تو کتنی مشکل سے وقت گزرتا ہے۔ایسے سخت روزے بھی آتے ہیں کہ اس کا لمحہ لمحہ یاد کروا رہا ہوتا ہے کہ تم کسی چیز سے محروم ہو مگر روحانی دنیا میں بعض لوگ عمر بھر نماز نہیں پڑھتے ان کو پتا بھی نہیں لگتا کہ ہم بھو کے ہو کر مر ہی چکے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بھوک کسی حد تک تو محسوس ہوتی ہے جب وہ موت میں تبدیل ہو جائے تو پھر کیسے محسوس ہوگی۔اکثر تو غفلت کی حالت میں نہیں بلکہ موت کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔مگر اس موت کا اور مادی موت کا ایک فرق ہے۔مادی موت ایک دفعہ آجائے تو پھر ہمیشہ کے لئے چمٹ جاتی ہے اس سے انسان نکل نہیں سکتا لیکن روحانی موت اگر چہ موت کی ساری علامتیں رکھتی ہے یعنی کھائے پیئے بغیر انسان پھر بھی جیسے دنیا میں سانس لے رہا ہے یہ امکان رکھتا ہے اپنے اندر کہ پھر وہ آنکھیں کھول دے۔پس روحانی موت کے مردوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یہ رسول۔اللہ کا رسول محمد رسول اللہ ﷺ تمہیں بلائے تا کہ تمہیں زندہ کرے تو استجابت کیا کرو، لبیک کہا کرو۔اب دیکھ لیں بظاہر تو ایک ہی قسم کی اصطلاحیں ہیں مگر ان دونوں میں فرق ہے۔پس جب مثالیں دی جاتی ہیں یا اصطلاحیں پیش کی جاتی ہیں تو آنکھیں بند کر کے مادی اصطلاحوں یا مثالوں کو بعینہ روحانی اصطلاحوں یا مثالوں پر چسپاں کرنا بیوقوفی ہے۔غور کر کے دیکھیں تو مضمون خود سمجھ میں آ جائے گا۔زندگی اور موت کی باتیں ہوتی ہیں مادی زندگی میں تو خدا کہتا ہے ایک دفعہ مر گیا تو کبھی زندہ ہو ہی نہیں سکتا۔پس جہاں موت کی اور زندگی کی اکٹھی باتیں کرتا ہے وہاں ضرور روحانی زندگی مراد ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جب عرض کیا رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتُى (البقرة: 261 )۔تو خدا نے مردہ زندہ کرنے کا گر سکھا دیا۔صاف پتا چلتا ہے کہ وہاں روحانی موت مراد تھی، جسمانی موت کا تو حال ہی مختلف ہے۔پس جہاں آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا کہ اے لوگو! جو ایمان لاتے ہو جب تمہیں یہ خدا کا رسول بلاتا ہے تا کہ تمہیں زندہ کرے تو لبیک کہا کرو۔تو وہاں بھی روحانی زندگی مراد ہے۔تو ہر دفعہ