خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 153
خطبات طاہر جلد 15 153 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایسا ہی انسانی فطرت میں خدا تعالیٰ نے مختلف صلاحیتیں مختلف ظرف رکھے ہیں۔اور انبیاء وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے ہیں اب نور مجسم کیا چیز ہے؟ نور تو جسم نہیں رکھتا۔اگر اس بات کو سمجھیں تو پھر وحی و الہی اور انبیاء کے عالی مرتبہ کا کچھ تصور دلوں میں باندھا جا سکتا ہے۔جسم کے اندر مختلف صلاحیتیں ہیں اور ہر صلاحیت کا خدا تعالیٰ کی کسی صفت سے تعلق ہے اور اس صفت کے شکر کا حق ادا کرنے کا مضمون ہمیشہ انسان کو بعض نیکیوں کی طرف بلاتا ہے۔آنکھ ہے، آنکھ کا بھی شکر ادا کرنے کا حق ہے۔آنکھ پہلے خدا تعالیٰ کے نور کو دیکھنے سمجھنے کی صلاحیت حاصل کرے۔جن جگہوں سے روکا جا رہا ہے وہاں سے رکے جن جگہوں کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو وہاں دیکھے۔اس کا دیکھنا اور اس کے دیکھنے کی سچائی یہ سارے وہ مضامین ہیں جن کا آنکھ کے نور سے تعلق ہے۔صرف ظاہری طور پر شعاعوں کے منعکس ہونے سے انسان نہیں دیکھ سکتا۔جب روحانی دنیا میں بات کرتے ہیں تو یہ ساری باتیں آجاتی ہیں یعنی وہ مقام جہاں خدا فرماتا ہے رک جاؤ یہاں ٹھوکریں ہیں اگر آپ ان مقامات سے گزرجائیں اور وہ مقامات آپ کو دکھائی نہ دیں تو لا ز ما ٹھو کر کھائیں گے اور اسی کا نام اندھے کا بھٹکنا ہے۔ظلمات میں بھٹکنے والے اسی طرح بے چارے ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ انبیاء وہ ہیں جو نور مجسم ہو جاتے ہیں یعنی ان کے جسم کا کوئی ذرہ بھی ایسا نہیں رہتا جس کی صفات پر اللہ تعالیٰ کی مرضی کا نور جلوہ گر نہ ہو چکا ہو۔ان کا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا ، ان کی ہر حرکت ، ان کا ہر سکون خدا کے تابع ہو تو تب اسے نور مجسم کہیں گے نا۔اس کے بغیر وہ نور مجسم کیسا ہو سکتا ہے اور جب نو ر ہر چیز کو ڈھانپ لیتا ہے تو گویا جسم غائب ہو گیا، جسم برتن بن گیا، اس برتن کو نور نے بھر دیا ہے اور پھر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ جسم ہے اور یہ نور ہے۔ان معنوں میں واقعہ بندوں کے نور مجسم بنتے ہیں مگر ان بندوں کے جو بندگی کا حق ادا کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ بھی نور مجسم تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء نور مجسم تھے۔نور مجسم ہوئے بغیر ان پر وحی کا نزول ہو ہی نہیں سکتا تھا اور نور مجسم ہونے