خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 141

خطبات طاہر جلد 15 141 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء وہ بچپن اور وہ سادگی ، وہ رونا وہ ہنسنا کبھی پھر وہ جوانی کے مزے، وہ دل لگی ، وہ قہقہے غرض یہ کہ ہر پرانی یاد کو وہ رات کو اس طرح اپنے سینے سے چمٹا تا (ترجمہ: نادر کاکوروی) ، اپنے دماغ میں الٹ پلٹ کے اس کے مزے لیتا ہے کہ وہی اس کی لوریاں بن جاتی ہیں مگر حسرت پھر نہیں جاتی۔ان چیزوں کو واپس لانے کی جو حسرت ہے وہ اس نظم میں جوں جوں آگے بڑھتی ہے وہ اور کھلتی چلی جاتی ہے۔ان حسرتوں کی قبر پر پھر آخر پر وہ یہ کہتا ہے کہ وہ یادیں پتیاں برسا رہی ہیں پھول کی ان حسرتوں کی قبر پر۔تو وہ چیزیں، جو یا د میں ایسی ہوں جن میں دوام پایا جائے ان میں حسرت کوئی نہیں ہوتی اور نور میں بھی یہی ایک خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ نور جو خدا کا نور ہے وہ آتا ہے اور ٹھہر جاتا ہے اور اندھیرا پھر اس کی جگہ دوبارہ نہیں لے سکتا۔وہ مستقلاً زندگی کا ایک حصہ بن جاتا ہے جو جگہ بنالے وہ بنا بیٹھتا ہے۔اس لئے انبیاء کا نور ہمیشہ دائمی ہوتا ہے۔انبیاء کے اوپر کوئی ایسا دور نہیں آتا کہ جونو رانہوں نے خدا کی محبت اور پیار میں کمایا ہو وہ نور ظلمتوں نے واپس چھین لیا ہو۔وہ بڑھتا ہے ، پھولتا ہے، پھیلتا ہے اور جگہیں بناتا چلا جاتا ہے، بدن کے روئیں روئیں میں سرایت کرتا چلا جاتا ہے اور اس میں ایک دوام پایا جاتا ہے۔وہی دوام ہے جو جنت بنے گا۔جیسا کہ تلخ تجر بہ جو ہے وہ اپنی ذات میں اگر لمبا ہو جائے تو ایک عذاب بنتا ہے اور تھوڑا بھی ہو تو اس میں ایک لمبائی کا مضمون پایا جاتا ہے۔چند لمحے عذاب کے بعض دفعہ ساری زندگی کو تلخ کر دیتے ہیں۔تو جہنم میں بھی جس حد تک دوام ہے وہ اسی حد تک ہے کہ خواہ تھوڑی بھی ہو، وہ سزا ابدی تو بہر حال اس رنگ میں نہیں ہوگی، جس رنگ میں جنت ہے مگر تھوڑی بھی ہو تو یوں لگے گا جیسے ابد ہورہی ہے انسان پر ، ایک دو لمحے بھی گزرنے کا نام نہیں لیں گے مصیبت پڑ جائے گی۔بعض گھڑیاں تکلیف میں اتنی بڑی ہو جاتی ہیں کہ قرآن کریم ان کے متعلق فرماتا ہے کہ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (الانعام: 16) یہ ایک عظیم دن کا عذاب ہے جو دن ختم ہونے میں نہ آئے۔تو دنوں کا لمبے اور بڑے ہو جانا اس کا تعلق عذاب سے ہے اور سکرہ جانا اور اس کے باوجود ختم نہ ہونا اس کا تعلق نیکی اور ثواب سے ہے وہ ثواب جو اللہ کی طرف سے آتا ہے وہ ان معنوں میں دوام پکڑتا ہے کہ اس لذت کی یاد ہمیشہ دل میں ٹھہرتی ہے اور لطف پیدا کرتی ہے کوئی حسرت نہیں پیدا کرتی