خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 140
خطبات طاہر جلد 15 140 اچھا کیا مجھ کو فراموش کر دیا خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء یرے مضمون بعینہ اس طرح تو پورا نہیں آتا مگر اچھی یادوں کے ساتھ تلخیاں ویسے ہی وابستہ ہوتی ہیں کیونکہ وہ یادیں کھوئے ہوئے مضمون سے تعلق رکھتی ہیں ایسی (محمدحسن لطیفی ) چیز جو پیاری لگی اور اب نہیں ہے۔مگر وہ یادیں جو ایک دائمی وجود سے تعلق سے وابستہ ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت ، اس کے پیار، اس کی محبت کے اظہار کے جلوے ، وہ یادیں ایسی ہیں جوان جلوؤں سے،ان پیار کے اظہار سے وابستہ ہوں کہ وہ اپنی ذات میں ایک دوام رکھتی ہیں اور محرومی کا احساس نہیں چھوڑتیں۔پس حقیقی نیکی وہی ہے یا حقیقی روحانی لطف وہی ہے جو دوام اپنے اندر رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جنت کو دائمی قرار دیا گیا ہے۔اس سے پہلے میں نے خطبے میں مختصراً، غالباً عید کے خطبے میں ہی عذاب کے متعلق ذکر کیا تھا، تکلیف کے متعلق ذکر کیا تھا کہ اس میں دوام نہیں پایا جاتا مگر تھوڑا ہونے کے باوجود لمبا دکھائی دیتا ہے اور جتنا اس سے دور ہٹتے چلے جاتے ہیں اتنا ہی لطف بڑھتا جاتا ہے اور اس کی یاد محض ان معنوں میں فائدہ دیتی ہے کہ شکر ہے اب ہمارا تعلق ٹوٹا اور اس تعلق کے دوبارہ قیام سے ہی جسم لرز اٹھتا ہے تو تلخ یادوں میں جتنی دوری ہوا تنا لطف بڑھتا ہے اچھی اور پیاری یادوں میں جتنی دوری ہو اتنی تکلیف بڑھتی ہے کہ کیا ہوئے وہ دن جن میں یہ کچھ ہوا کرتا تھا۔بعض شعراء اپنے بچپن کی یادوں کو پھر اتنا پیار دیتے ہیں اور اتنے پیار سے پالتے ہیں کہ وہ یادیں ان کی راتوں کی لوریاں بن جاتی ہیں۔ایک انگریزی نظم کا کسی نے اردو میں ترجمہ کیا ہے اور ترجمہ ایسا کیا کہ گویا اس نظم کو اپنا گیا ہے اور میں نے دونوں کا موازنہ کر کے دیکھا ہے جو تر جمہ ہے وہ اپنی خوبی میں اصل سے بھی اونچا نکل گیا ہے اور وہ نظم ہے۔اکثر شب تنہائی میں، کچھ دیر پہلے نیند سے گزری ہوئی دلچسپیاں، بیتے ہوئے دن عیش کے بنتے ہیں شمع زندگی، اور ڈالتے ہیں روشنی میرے دل صد چاک پر اسی طرز پر وہ مضمون کو بڑھاتا ہے۔(ترجمہ: نادر کاکوروی)