خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 142

خطبات طاہر جلد 15 142 خطبہ جمعہ 23 فروری 1996ء کیونکہ لذت ایک زندہ لذت ہے۔جس کے ساتھ تعلق ہو گا جس نے احسان فرمایا اس نے احسان سے ہاتھ نہیں کھینچا۔جس نے پیار کی نظر ڈالی اس نے نظر پھیری نہیں اور بے اختیار ایسے شخص کا دل یہ پکار اٹھتا ہے۔سبحان من یرانی۔پاک ہے وہ ذات جو ہمیشہ مجھے دیکھتی چلی جارہی ہے، ہرلمحہ میں اس کی نظر کا پیار محسوس کرتا ہوں۔پس ان معنوں میں رمضان مبارک جو آ کے گزر گیا ہے وہ کچھ ایسی لذتیں عطا کر گیا جو دوام رکھتی ہیں اور وہ کبھی مٹ نہیں سکتیں۔جن بدیوں کو مٹا گیا وہ پھر زندہ نہیں ہوسکتیں۔جن نیکیوں کو قائم کر گیا ان کو پھر کوئی چیز جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتی۔یہ وہ دائی لذت ہے جن سے ہم اپنی آئندہ جنت بنائیں گے اور بنا رہے ہیں اور اس کا فیصلہ اسی دنیا میں ہو جاتا ہے۔ابھی رمضان کو گزرے جمعہ، جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے کیونکہ جو پچھلا جمعہ تھا وہ رمضان کے اندر تھا اس کے بعد بھی ہم نے تین دن یا چار دن رمضان کے دیکھے تو اب دیکھ لیجئے کہ اتنے تھوڑے سے وقفے میں بھی رمضان بعض لوگوں کو اپنے سے کتنا دور ہٹا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔اتنا دور چلا گیا ہے کہ وہ چیزیں جن کی کبھی جرات کا تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا ان کی طرف طبیعتیں مائل ہو رہی ہیں ، انہی غفلتوں کی طرف انسان لوٹ رہا ہے ، وہ تہجد کی رونقیں ختم ، صبح کی نمازیں بھی قضا ہونے لگیں اور لوگ مزے کی نیندیں سونے لگے کہ اب رمضان کی تھکاوٹ دور کر لیں۔حالانکہ رمضان کی تھکاوٹ تو قرب الہی دور کیا کرتا ہے اس کے سواتو رمضان کی تھکاوٹ دور نہیں ہوسکتی۔جس چیز کو آپ تھکاوٹ دور کرنا کہتے ہیں وہ تھکاوٹ کی طرف لوٹنا ہے اس کے سوا اس کی کوئی حیثیت نہیں۔دنیا کی مشقت اور محنت ایک بے معنی اور بے حقیقت تھکاوٹ ہے جس کے آگے کوئی جنت نہیں ہے۔اس کے آگے سراب ہے۔تھکا وٹ جس کا نتیجہ سراب ہے۔چنانچہ قرآن کریم ایسے شخص کی مثال جو دنیا کی لذتوں کی طرف دوڑ رہا ہے ایسے شخص سے دیتا ہے جو پیاسا بہت ہو مگر سراب کی طرف دوڑ رہا ہو۔اسے دور سے پانی دکھائی دے لیکن وہ پانی نہیں نظر کا دھوکہ ہو اور صحرا میں جولق و دق صحرا ہو اس میں پانی کی بوند بھی دکھائی نہ دے وہیں وہ پانی دکھائی دیتا ہے جو نظر کا دھوکہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کی پیروی کرتا ہے دوڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ تھک کر وہ جگہ جہاں اس کا دم ٹوٹتا ہے وہ وہی سراب کا مقام ہے جہاں کچھ بھی نہیں ہوتا