خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 124

خطبات طاہر جلد 15 124 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء الله ہو کہ رمضان کی ایک رات ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ زمانہ نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺ کا تمام زمانہ ہے بلکہ ہر نبی کا زمانہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہوا کرتا ہے کیونکہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہی ہے جس میں نبوت کا ظہور ہوتا ہے۔لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہی ہے جس کو روشنی میں تبدیل کرنے کے لئے آسمان سے نور اترتا ہے۔فرمایا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہی میں تمام انبیاء بھیجے جاتے ہیں۔چنانچہ یہ جو آیت ہے یہ اس بات کو کھول رہی ہے اَمْرَا مِنْ عِنْدِنَا ہماری طرف سے ایک تقدیر ہے إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِینَ کہ ہم ہمیشہ مرسل بھیجا کرتے ہیں اور جو مرسل بھیجتے ہیں ان کا اس لَيْلَةٍ مُ برَكَةٍ سے تعلق ہے اور جو مرسل بھیجے جاتے ہیں۔فرمایا مرسلین ان کے متعلق یاد رکھیں کہ وہ نذیر بھی ہیں اور بشیر بھی ہیں۔ڈرانے والے بھی ہیں اور خوشخبریاں دینے والے بھی ہیں۔پس مبارک لفظ کے ساتھ منذر کہ دینا صاف بتاتا ہے کہ یہ دو پہلو ہیں جن کا اس رات سے تعلق ہے۔اور ایک اور پہلو جو اس آیت سے نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ فرمایا قرآن کریم اس رات کے متعلق اتارا گیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس رات کے تمام مضامین قرآن کریم میں موجود ہیں۔یہ ایک بہت اہم پہلو ہے رات تو آ کے گزر جاتی ہے قرآن تو نہیں گزر جاتا، قرآن تو ہمیشہ ہمارے سامنے رہتا ہے۔پس یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ تم ایک رات میں برکتیں ڈھونڈ نہیں سکتے جب تک ان برکتوں سے دائی تعلق نہ قائم کر لو جو تمام تر قرآن میں موجود ہیں۔اس لئے ایک رات اٹھ کر شور مچادو اور یہ سمجھو کہ تم نے جو کچھ مانگا تھا سب کچھ مل گیا اور اب مزید تمہیں کوئی حاجت نہیں رہی اگلے سال پھر مانگنے آجاؤ گے۔یہ ایک بالکل غلط تصور ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، قرآن کریم میں جو باتیں ہیں وہ ساری اس رات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔گویا اس رات کے ساتھ جتنی برکتیں ہیں وہ قرآن میں موجود ہیں۔رات گزر جائے گی مگر قرآن تو تمہارا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔اگر اس سے دائمی تعلق رکھتے ہو تو رات کی برکتیں بھی ملیں گی۔اگر اس سے تعلق نہیں ہے تو رات کی برکتوں سے بھی محروم رہو گے کیونکہ یہاں قرآن کو لَيْلَةُ الْقَدْرِ سے کاٹا جاہی نہیں سکتا۔نہ قرآن کریم کو رمضان مبارک سے کاٹا جا سکتا ہے، نہ قرآن کریم کو لَيْلَةُ الْقَدْرِ سے کاٹا جا سکتا ہے۔یہ ممکن نہیں ہے کہ قرآن سے تم کاٹے جاؤ اور رمضان نصیب ہو جائے۔اس لئے محض لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی تلاش کافی نہیں ہے جب تک قرآن کریم سے ایک دائمی مستقل تعلق قائم نہ ہو اور قرآن کریم کے مضامین پر غور نہ کرو۔