خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 125
خطبات طاہر جلد 15 125 خطبہ جمعہ 16 فروری 1996ء ایک اور بات اس میں جو قابل توجہ ہے۔فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ اس رات میں ہرا ہم اور حکمت والے معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے وہ فیصلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تقدیروں کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ایک تو ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق زمانے کی تقدیر سے ہے اور ہر زمانے میں ایک لَيْلَةُ الْقَدْرِ جب آتی ہے یعنی وہ دور جس میں خدا تعالیٰ مرسل بھیجتا ہے وہ دور جس میں خدا تعالیٰ غیر معمولی طور پر بشیر اور نذیر بنا کر اپنے نمائندے بھیجا کرتا ہے اس دور میں تقدیروں کے فیصلے ہوتے ہیں۔قوموں کی تقدیریں بنائی جاتی ہیں اور جو بد نصیب ہوں ان کی بگڑی ہوئی تقدیر کے فیصلے کھول دیئے جاتے ہیں لیکن ایک اور بات بھی اس میں ہے وہ ہے انفرادی فیصلے، ہر انسان کی تقدیر کا فیصلہ اس رات میں کیا جاتا ہے اور وہ ایسا فیصلہ ہے جس کا آپ کو علم ہو سکتا ہے۔وہ جو عظیم فیصلے ہیں ان کے متعلق تو آپ کہ سکتے ہیں کہ ہمیں پتا نہیں وہ کیا فیصلے ہوئے ہیں۔کون سی قو میں بچیں گی ، کون سی زندہ رکھی جائیں گی اور باقی رکھی جائیں گی۔کون سی قوموں کی صف لپیٹ دی جائے گی اور وہ ہمیشہ کے لئے ماضی میں دفن ہو جائیں گی۔یہ سب اہم فیصلے جو ہوتے ہیں اور ہوتے چلے آئے ہیں۔مگر ہر ذات سے بھی تو کچھ فیصلے متعلق ہوا کرتے ہیں۔ہر فرد بشر سے بھی تو کچھ فیصلے متعلق ہوتے ہیں۔وہ بھی اسی رات میں کئے جاتے ہیں اور ان کا علم ہر انسان کو ہوسکتا ہے اور ہونا چاہئے کیونکہ جب وہ خدا کے حضور پیش ہوتا ہے تو اس کے متعلق کیا فیصلے ہوئے ہیں اس کا اس کو پتا نہ لگے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا اور پہچان کیا ہے؟ کس طرح پتا چلے گا کہ اس کے متعلق اچھے فیصلے ہوئے ہیں، برکتوں والے فیصلے ہوئے ہیں ، انذار والے فیصلے نہیں ہوئے۔وہ اس طرح پتا چلتا ہے کہ انسان جب لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی تلاش میں راتیں گزارتا ہے تو کچھ اسے خود فیصلے کرنے پڑتے ہیں جن فیصلوں کی اس کو توفیق ملے۔جو نیکی پر قائم ہونے کے فیصلے ہیں اور گناہوں کو چھوڑنے کے فیصلے ہیں وہی فیصلے ہیں جو آسمان پر اس کے متعلق ہوتے ہیں اور خدا ان کی توفیق عطا فرماتا ہے۔پس اگر آپ اپنے دل میں کوئی ایسے فیصلے نہ کریں جو آپ کو ایک نئی زندگی عطا کرنے والے فیصلے ہوں ، جزوی طور پر بھی آپ کو یہ توفیق نہ ملے کہ بعض بدیوں کو ہمیشہ کے لئے ترک کرنے کا ایک عزم کر لیں اور فیصلہ کریں کہ ہم کبھی اب اس بدی کے قریب تک نہیں پھٹکیں گے اور بعض نیکیاں اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیں اور کہیں کہ ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہمیشہ اس نیکی کو مقدم رکھیں گے تو یقین جانیں کہ وہی فیصلے ہیں جو لَيْلَةُ الْقَدْرِ میں