خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد 15 101 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء ایک دائمی حضوری حاصل ہے مگر وہ کم ہوتے ہیں وہ استثناء ہیں۔پس آیا ما مَّعْدُودَتِ کے دوسرے معنی یہ بنیں گے کہ گنتی کے چند دن آ کے گزر جانے والے ہیں اور کاش یہ جاری رہ سکتے مگر جتنے دن ہیں ان سے تو پورا فائدہ ہم اٹھا ئیں اور مَّعْدُودَت میں جو حرص پیدا ہوتی ہے کہ یہ گزرنے والے دن ہیں اس کی مثال وصل کی گھڑیوں سی ہے۔وصل کی گھڑیاں بھی تو بعض دفعہ مقرر ہوتی ہیں معین ہو جایا کرتی ہیں۔پتا ہے کہ محبوب کتنی دیر کے لئے آیا ہے اور انسان چاہتا ہے کہ اس کا ہر لمحہ اس کے قرب میں گزر جائے۔یہ بھی أَيَّا مَا مَّعْدُو رت ہیں اور سزا کی گھڑیاں بھی معین ہوتی ہیں ،فراق کے لمحے بھی آیا ما مَّعْدُودَتٍ بن سکتے ہیں لیکن کتنے مشکل لمحات ہیں کہ ایک ایک گھڑی ، ایک ایک دن ایک ایک رات گن گن کے کاٹنی پڑتی ہے۔تو مَّعْدُودَت کے دونوں معنے ہیں اور ان دونوں معنوں میں یہ مضمون رمضان مبارک پر صادق آتا ہے اور پھر عجیب بات ہے کہ اس کے دن واقعی جس طرح گنے جاتے ہیں اس طرح کسی اور مہینے کے دن گنے نہیں جاتے۔آج پہلا روزہ ہو گیا، آج دوسرا ہو گیا ، آج تیسرا ہو گیا اور دن گنتے وقت بھی وہی کیفیت گننے والے کی الگ الگ کیفیت اس کے لئے الگ الگ پیغام لے کے آتی ہے۔آخر پر جب پہنچ جاتے ہیں تو وہ لوگ جو ڈرتے ڈرتے رمضان میں داخل ہوئے تھے کہ کتنا لمبا رمضان پڑا ہوا ہے آج ایک روزہ گزرا ہے اور بڑی مشکل سے گزرا ہے ،کل دوسرا ہوگا پھر تیسرا پھر چوتھا لیکن جب رمضان الٹ پڑتا ہے جب اپنے اختتام کے پاس پہنچتا ہے تو اس کی کیفیت ویسی ہو جاتی ہے جیسے آبشار کے قریب پہنچتے پہنچتے دریا کی کیفیت ہوتی ہے۔اس میں ایک روانی آتی ہے ایک تیزی آتی ہے ایک بہاؤ ہے جو موجیں مارتا ہوا اس کنارے کی طرف بڑھتا ہے۔پس رمضان بھی جب بیچ کا نصف گزر چکا ہو تو الٹنے لگتا ہے، رفتہ رفتہ انسان محسوس کرتا ہے کہ اب یہ اس کنارے پر پہنچنا ہے جس کے بعد یہ آبشار بن جائے گا اور آبشار بننے کے دن دراصل یہ آخری دس دن ہیں۔اس قدر جوش اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے رمضان میں جیسے طغیانی آئی ہوئی ہو اور ہم ان دنوں کے قریب ہیں اس لئے آپ دیکھیں کہ پچھلے پندرہ دن جب پندرہ روزے گزرے ہیں اس کے اور اب کے درمیان تو وقت کا پتا ہی نہیں چلا کہ کیسے گزر گیا تو اس لئے کہ ہم اس آبشار کے دہانے پر کھڑے