خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 102
خطبات طاہر جلد 15 102 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء ہیں آج انیسواں روزہ ہے کل اعتکاف شروع ہو جائے گا۔عام طور پر اکیس سے تھیں تک کے دس دن اعتکاف کے ہونے چاہئیں مگر چونکہ یہ پتا نہیں لگ سکتا تھا کہ آخری دس دن نصیب ہوں گے کہ نہیں اس لئے احتیاطاً گیارہ دن کا اعتکاف ہونے لگا کیونکہ اگر انتیس کے روزے ہو جائیں اور آپ دس دن کے خیال سے اعتکاف بیٹھیں تو اعتکاف نو دن کا رہ جائے گا اور اعتکاف کے لئے دس دن کی شرط ہے۔اس لئے فقہاء اور علماء نے اس کے سوا چارہ نہ پایا اور یہی دستور ، یہی سنت آنحضرت ﷺ کی کہ رمضان مبارک کے آخر پر اس احتمال سے کہ کہیں انتیس کا رمضان نہ ہو ایک دن پہلے اعتکاف بیٹھتے تھے۔اب جبکہ یقینی طور پر ہمیں پتا چل چکا ہے کہ آخری دس دن ہمیں میسر آسکتے ہیں اگر تمہیں کا رمضان ہے، اس کے باوجود ہم اعتکاف کو ایک دن پہلے ہی شروع کرتے ہیں کیونکہ ایک دن کم کرنے کا فائدہ تو کوئی خاص نہیں مگر ایک دن بڑھانے کی برکت بڑی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سنت یہ تھی۔آپ بھی تو اسی طرح کبھی گیارہ دن کبھی دس دن بیٹھتے تھے مگر اس احتمال سے کہ دس نو نہ رہ جائیں آپ گیارہ قبول کر لیتے تھے۔پس اگر اس احتمال سے کہ دس کہیں نو نہ رہ جائیں گیارہ قبول کئے جاسکتے ہیں تو اس ذوق و شوق سے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل ہو جائے کیوں دس کو گیارہ نہ بنایا جائے۔پس اس لئے ہم نے باوجود یقینی علم ہونے کے اس طریق کو تبدیل کرنا پسند نہیں کیا اور اب بھی تمام احمدی مساجد میں قطعی طور پر علم ہونے کے باوجود کہ یہ ہمیں دن کا رمضان ہے گیارہ دن کا اعتکاف بیٹھا جاتا ہے، بجائے دس دن کے اور جب انتیس کا ہوتو پھر وہ طبعی طور پر دس ہی دن کا بن جاتا ہے۔پس اعتکاف کل سے شروع ہونے والا ہے اور جب اعتکاف آجائے تو پھر تو آبشار کا منظر بالکل سامنے کھل کے آجاتا ہے۔کچھ پتا ہی نہیں چلتا کہ آدمی خود چل رہا ہے یا چلایا جارہا ہے۔کشتیاں کئی دفعہ چلائی جاتی ہیں کئی دفعہ وہ تمہیں بہا کے لے جاتی ہیں۔تو رمضان کے آخری دس دن تو انسان کو بہالے جاتے ہیں اور اور قسم کی بھی آبشار میں پیدا ہوتی ہیں جو آنسوؤں سے جاری ہوتی ہیں ، دلوں سے پھوٹتی ہیں اور دعاؤں کی آبشاریں ہیں جو ان آنسوؤں کے ساتھ ساتھ گرتی ہیں۔پس عجیب مناظر ہیں جو آخری دس دن ہمارے سامنے لانے والے ہیں اور ان مناظر کو دیکھتے ہوئے اگر ان کی کیفیات سے گزریں پھر اس آیت کا مفہوم سمجھ آتا ہے آیا مَا مَّعْدُو دَتِ چند گنتی کے دن تھے گزر گئے پتا نہیں ہم خدا کو راضی کر سکے کہ نہیں کر سکے۔پتہ نہیں ہمارے گناہ بخشے گئے کہ نہیں بخشے