خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 100

خطبات طاہر جلد 15 100 خطبہ جمعہ 9 فروری 1996ء آپ کی خدمت میں عرض کی تھیں مگر قرآن کریم کے مضامین تو بے انتہا ہیں ہر آیت کو بار بار پڑھنے سے کچھ نئے مضامین سامنے آتے چلے جاتے ہیں۔رمضان کے تعلق میں سب سے پہلے تو میں ” گنتی کے چند دن کی بات کرتا ہوں جیسا کہ میں نے کہا تھا ایک پہلو اس کا یہ ہے کہ تھوڑے دن ہی تو ہیں چند دن کی بات ہے اور یہ پہلو کمزوروں کے لئے ہے۔وہ لوگ جو روزے کا خوف کھاتے ہیں جو روزے سے ڈرتے ہیں جن کو نیکیوں کی عادت نہیں جن کو خدا کی راہ میں قربانیاں دینے کی مشق نہیں ہے ان کے لئے یہ بات کیسے پیارے انداز سے ایک سہارا ہے۔چند دن کی بات ہے کچھ کر لو، جو کچھ کر سکتے ہوکر لواس سے تمہیں فائدہ پہنچے گا اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ کاش کہ تم جانتے تمہیں پتا ہوتا کہ یہ چند دن کی قربانی تمہارے لئے کیسی دائمی برکتیں لے کے آئے گی۔ایک دوسری بات معدُو رت میں یہ ہے کہ افسوس کہ یہ چند دن کی باتیں ہیں بہت پُر بہار موسم آنے والا ہے مگر وہ لوگ جن کو محبت ہو جن کو ہر بار رمضان سے گزرنے کے بعد ایسے روحانی تجربات ہوئے ہوں ایسے لطف انہوں نے اٹھائے ہوں تو وہ جب رمضان گزرنے لگتا ہے پھر حسرت سے دیکھتے ہوئے یہ کہتے ہیں چند دن کی باتیں تھیں جو گزرگئیں ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی سال میں وہ کیوں انہی نیکیوں کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر بات کے موسم ہوا کرتے ہیں۔بہار کا بھی ایک موسم ہے، خزاں کا بھی ایک موسم ہے اور موسم پر انسان کو اختیار نہیں۔یہ تو ممکن ہے کہ خزاں کا موسم ہو اور کچھ پودے پھول پھل رہے ہوں لیکن عمومی کیفیت یہی ہے کہ جہاں تک قاعدہ کلیہ کی بات ہے خزاں میں کم ہی سبزہ دیکھنے میں آتا ہے اور کم ہی پودے ہیں جنہیں خزاں موافق آجاتی ہے اور بہار میں بھی یہی صورت ہے کہ عمومی طور پر ہر چیز سرسبز و شاداب دکھائی دیتی ہے، سوکھے ہوئے درخت ہرے ہونے لگتے ہیں ،شاخیں کونپلیں نکالتی ہیں اور رونق پھر دوبارہ لوٹ آتی ہے لیکن کچھ ایسے بھی سوکھے درخت ہیں جو بہار آنے پر بھی سوکھے رہ جاتے ہیں تو موسم کی بات ہے۔رمضان ایک موسم لے کے آتا ہے یہ موسم قرب الہی کا موسم ہے۔یہ موسم فضا تبدیل کر دیتا ہے کمزور بھی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور طاقتوروں کے اردگرد سہارے بن جاتے ہیں طاقتوروں کو اور آگے بڑھنے کی توفیق ملتی ہے۔تو موسم کے جھرمٹ میں جو چیزیں ہوتی ہیں وہ بے موسم میں چاہو بھی تو ہو نہیں سکتیں سوائے اس استثناء کے سوائے ان لوگوں کے جن کو خدا کے حضور