خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد 15 95 55 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء جاتے ہیں تو لاکھ فریب کریں، کروڑوں فسوں کریں نہ رہا، نہ رہا، نہ رہا مگر خدا تو ایسا محبوب نہیں ہے۔وہ تو جب آپ کا بنتا ہے جتنا بن جاتا ہے پھر ممکن ہی نہیں کہ وہ آپ کو چھوڑ کر چلا جائے ، آپ کے لئے بھی ممکن نہیں رہتا کہ اسے چھوڑ دیں اور یہ مضمون جو ہے یہ رفتہ رفتہ خدا کو پانے کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ سارا خدا مل جائے۔سارا خدا تو بندے کو مل سکتا ہی نہیں۔سارے خدا کی طرف دائمی حرکت ہو سکتی ہے اور سارے خدا کی طرف دائمی حرکت کے لئے یہ شرط ہے کچھ تو ملے۔کچھ تو ہاتھ میں ہو کہ جس کو آپ سمجھیں کہ ہاں یہ خدا تھا ، خدا ہے یہ میرا ہو چکا ہے۔یہ ي تعلق قائم ہوگا تو سفر شروع ہوگا۔اگر قائم نہیں ہو گا تولا کھ رمضان آئیں اور گزرجائیں آپ کو رمضان کے بعد یہی واویلا کرنا ہو گا نہ رہا، نہ رہا، نہ رہا، نہ رہا لگتا تھا کہ آیا ہے، لگتا تھا کہ ہمارے دل پہ بھی رونق کی ہوائیں چلی ہیں مگر وہ آئیں اور گزرگئیں اور دل کی ویرانی نہ گئی۔خزاں خزاں ہی رہی اور بہار کے موسم میں تبدیل نہ ہوئی کیونکہ بہار کی علامتیں باقی نہیں دکھائی نہیں دے رہیں۔پس خواہ تھوڑا کمائیں اتنا کمائیں جو واقعہ خدا کا کمانا ہواور جب خدا کمایا جائے گا تو فَلْيَسْتَجِيبُوا کی علامتیں آپ کی ذات میں بولنے لگیں گی۔پھر آپ کا دعوئی ایمان کا نہیں ہوگا ، دنیا دیکھے گی کہ ہاں ان کی ذات میں ہمیں خدا کی استجابت کے نظارے دکھائی دے رہے ہیں ،اس کی علامتیں ظاہر ہو گئیں ہیں۔اس طرح اگر آپ کرتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ رمضان ہمارا بہت ہی بابرکت رمضان گزرے گا۔اس ضمن میں میں نے ایک مختصر سی بات کہی تھی اب پھر اسی کو یاد کرا کے اس خطبہ کو ختم کروں گا کہ افطاری کروانا اچھی بات ہے مگر افطاریوں میں جان ڈال دینا ان معنوں میں کہ خوراک کی باتیں ہوتی رہیں۔کس نے زیادہ اچھا کھلایا، کس نے زیادہ اچھا پکایا یہ تو رمضان کے مضمون کے منافی ہے، سوشل فنکشن منا لینا اس حد تک کہ بعض جگہ اطلاعیں ملی ہیں کہ چندے اکٹھے ہو رہے ہیں کہ افطاریاں کروائیں۔کل کی بات میں نے ٹیکس پہ ان کو کہا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ہرگز اجازت نہ دیں۔انہوں نے کہا کہ کیا جماعت کی طرف سے کر لیں۔میں نے کہا جماعت کی طرف سے یہ بھی رمضان کا ایک حصہ ہے کبھی اکٹھا بیٹھنے سے ایک محبت بڑھتی ہے اگر جماعت اپنی طرف سے کرتی ہے تو کرے بے شک لیکن افطاریاں کروانے کو رسم بنالینا اور اس کے لئے چندے اکٹھے کرنا اور جو پیسے