خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 96
خطبات طاہر جلد 15 96 96 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء دے سکتا ہے وہ آئے ، یہ بالکل ظلم ہے، رمضان کی روح کے بالکل منافی اور اس سے متصادم ہے۔رمضان کی روح تو یہ ہے کہ آپ بھوکے رہتے ہیں، ان بھوکوں کی خاطر جن میں خدا آپ کا انتظار کر رہا ہے جن کی تکلیف میں خدا موجود ہے آپ وہاں پہنچیں گے تو خدا کو پہچانیں گے ان کی خدمت کریں۔اصل افطاری وہ ہے کہ جب جہاں آپ کو بھوکوں کی تلاش ہو جہاں غریبوں کی جستجو ہو دیکھیں کہ کون کون ہیں جو دکھوں میں مبتلا ہیں ، ان تک پہنچیں ، ان کے دکھ دور کریں، وہ لذت جو آپ محسوس کریں وہ لذت خدا محسوس کر رہا ہوگا یہ ہیں وصل کے ذریعے۔اس بھوک میں بھی آپ کو وصل نصیب ہو گا جو غیر کی ، خدا کے بندے کی بھوک آپ کے دل میں مچل رہی ہوتی ہے۔اس سحری میں بھی آپ کو خدا محسوس ہو گا جو سحری ایک خدا کے غریب بندے کی کروا کر آپ ایک لذت محسوس کرتے ہیں تو قرب کے ذریعے ایسے بھی نہیں ہیں جو فرضی ہیں ، وہ دکھائی دیتے ہیں اور ان غریبوں میں خدا کا قرب بھی تلاش کریں ان کے حقوق ادا کریں ان کے لیے زیادہ سے زیادہ اپنے سینے کھولیں تو ان سینوں میں خدا ضرور بس جائے گا اور پھر ہمیشہ بس جائے گا۔یہ بھی ایک تجربہ ہے جس کو غریب کی خدمت کی لذت آجائے ناممکن ہے کہ زندگی بھر پھر وہ لذت اس کا ساتھ چھوڑ دے۔یہ تو ایسا چسکا ہے جو جان کا حصہ بن جاتا ہے۔کسی کا دکھ دور کرنا ایک ایسی لذت ہے جو کسی اور جزا کو چاہتی ہی نہیں ہے۔دکھ دور کرنا خود ایک لذت ہے۔تو فَانِي قَرِيب کا یہ معنی ہے۔اس کو سمجھیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا قرب عطا فرمائے جو دوام رکھتا ہے جسے روح القدس کی برکت بھی کہا جاتا ہے۔خطبہ ثانیہ سے قبل حضور انور نے فرمایا:۔ابھی نماز جمعہ اور عصر کے بعد ایک بیعت ہوگی۔عام طور پر تو یہ رواج نہیں ہے، مطلب ہے دستور نہیں ہے مگر روس سے ہمارے ایک دوست تشریف لائے ہوئے ہیں جن کا نام آذر بائیجان ہے اور یہ ایک بہت بڑے آرٹسٹ ہیں اور اس ملک کے تھیٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اور انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف تھیٹر زایسوسی ایشن کے ممبر ہیں۔گوربا چوف کے زمانے میں سینٹ کے ممبر بھی رہے ہیں۔یہ احمدیت کی جستجو میں یہاں نہیں آئے تھے ان کے اپنے آرٹس کے کام تھے جن کی خاطر یہ یہاں تشریف لائے مگر چونکہ ان کا وہاں احمدیوں سے تعارف تھا انہوں نے ہمارا بھی حوالہ دیا۔یہاں