خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 988
خطبات طاہر جلد 14 988 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء اور بے حد عزت تھی چوہدری صاحب کی ان کے دلوں میں۔اپنی ساری برادری پر بہت اثر رکھتے تھے اور ان کا مختصر تعارف یہ ہے کہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو احمدیت کا سخت مخالف تھا ان کے بہنوئی رئیس احرار افضل حق تھے۔ایک عبد الرحمن صاحب تھے جو پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے اور چوٹی کے جماعت کے مخالفین اور احمدی کب ہوئے چودہ سال کی عمر میں۔1918ء میں پیدا ہوئے اور 1932ء میں احمدی ہو گئے۔وہ چھوٹا سا بچہ چودہ سال کا ایسی مصیبت میں مبتلا ہوا کہ قیامت برپا ہو گئی اس خاندان پر ، دور دور سے چوٹی کے ہندوستان کے علماء کو بلایا گیا ، ان کے ساتھ مجالس لگائی گئیں کہ اس کو تو بہ کرا دو۔جب وہ کامیاب نہیں ہوئیں کوششیں اور چوہدری صاحب کو جو اللہ نے غیر معمولی ذہانت عطا فرمائی تھی اس سے چوہدری صاحب ہر ایک کا منہ بند کر دیتے رہے تو پھر پیروں فقیروں کے پاس لے گئے اور کہا اس پر جنتر منتر کرو، کوئی دعائیں پڑھو۔چوہدری صاحب واقعات سنایا کرتے تھے بعض پیروں نے کہا کہ نہیں اس پر کسی کا جادو نہیں چل سکتا یہ بڑی سخت ہڈی ہے۔تو اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا بڑی تبلیغ کی توفیق ملی۔اپنے خاندان میں، غیروں میں، ہر جگہ احمدیت کے لئے ایک تو غیرت میں ننگی تلوار اور تبلیغ کے لحاظ سے ایسا میٹھا رس تھے جو دلوں کی گہرائی تک اتر تا تھا۔1974ء میں جو جماعت کے خلاف شور اٹھا ہے اس کے پس منظر میں وہ کامیاب تبلیغ تھی جماعت کی جس کے نتیجے میں مولویوں کے کیمپوں میں تہلکہ مچ گیا تھا۔حکومت بھی بے قرار ہوگئی تھی کہ اگر اس طرح احمدیت تیزی سے پھیلنا شروع ہوئی تو کیا بنے گا ہمارا۔اس میں چوہدری صاحب کا ضلع سب سے آگے تھا۔ضلع شیخو پورہ سے سب سے بڑے وفد آیا کرتے تھے ہر ہفتے اور اللہ کے فضل سے رونقیں لگ جاتی تھیں۔ربوہ میں ہر طرف مولوی ہی مولوی پھر رہا ہوتا تھا مگر آنے والا مولوی اور ہوتا تھا جانے والا اور ہوتا تھا، شکل ہی بدل جاتی تھی ان کی۔تو چوہدری صاحب نے اس مہم میں سب سے زیادہ مرکزی کردار ادا کیا تھا۔انہیں کی وجہ سے پھر دوسرے دلوں میں بھی شوق پیدا ہوا تھا اور بڑا ہی فدائی انسان احمدیت کے عاشق، مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق ، خلافت کے عاشق اور ایسی طبیعت مزے کی کہ باتیں کرتے تھے تو پھول جھڑتے تھے۔لطائف کا بہت پیارا ذوق تھا اور حاضر جوابی تو درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔کئی لوگ چوہدری صاحب کی حاضر جوابی کی وجہ سے سوچ سوچ کر،