خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 989
خطبات طاہر جلد 14 989 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء سکیمیں بنا بنا کر آتے تھے کہ یہاں ہم ان کو پچھاڑیں گے اور بات کرتے کرتے چوہدری صاحب ایسا جواب دیتے تھے کہ الٹے پاؤں ان کو بھا گنا پڑتا تھا۔کبھی آج تک میں نے یہ حاضر جوابی کے مقابلے میں چوہدری صاحب کو کسی سے شکست کھاتے نہیں دیکھا۔غیروں کے مقابل پر بھی یہی حال تھا، احمدیت کے دلائل کے تعلق میں بھی یہی حال تھا۔تو بہت ہی پیارا و جود تھا۔حضرت مصلح موعودؓ کے بہت پیارے تھے، حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو بہت پیارے تھے اور مجھے بہت ہی پیارے تھے۔بہر حال اللہ جو بلانے والا ہے وہ سب سے پیارا ہے اسی پر ہماری جان ہمارا سب کچھ شمار ہو اور اسی کے قدموں پہ ہماری روحیں فدا ہوں۔اللہ چوہدری صاحب کی روح کو بھی غریق رحمت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو بھی وہ خوبیاں عطا کرے جن خوبیوں کے وہ علمبر دار ر ہے ہمیشہ تفصیلی ذکر کا تو بہر حال موقع نہیں۔نہ مناسب ہے جمعہ کو اس قسم کے تفصیلی ذکر میں تبدیل کرنے کا مگر یہ باتیں میرا خیال ہے دلوں میں دعا کی تحریک پیدا کرنے کے لئے کافی ثابت ہوں گی۔ایک اور ہمارے بزرگ دوست سید احسن اسماعیل صدیقی صاحب گوجرہ میں وفات پاگئے ہیں۔ابن سید چراغ دین شاہ صاحب مرحوم اور استانی چراغ بی بی صاحب مرحومہ۔یہ 22 دسمبر 1995ء کو وفات پاگئے ہیں انـا لـلـه وانا اليه راجعون۔جسمانی لحاظ سے ان میں کچھ کمزوریاں تھیں اور اس کے باوجود بڑے ہمت والے انسان اور اعلیٰ ظرف اور اچھے اعلیٰ پائے کے شعر کہتے تھے۔اور نچ نچ تھا اس میں لیکن بعض دفعہ شعر چمک کے ایسا اٹھتے تھے کہ بہت اونچی فضا تک پہنچ جاتے تھے۔ان کی ایک نظم تو اتنی مقبول عام ہوئی کہ ایک زمانے میں ربوہ میں تو بچہ بچہ اس نظم کوگا تا پھرتا تھا۔عرفان کی بارش ہوتی ہے دن رات ہمارے ربوہ میں اک مرد قلندر رہتا ہے دریا کے کنارے ربوہ میں ظلمت کی گھٹائیں چھائی ہیں اسلام کے روئے تاباں پر اس دور میں بھی آتے ہیں نظر کیا چاند ستارے ربوہ میں تو حید کی باتیں کرتے ہیں محبوب خدا پر مرتے ہیں یہ کوئی فرشتے ہیں یا رب جو تو نے اتارے ربوہ میں یہ زندہ جاوید کلام سید احسن اسماعیل صدیقی صاحب کا ہے۔ان کی نماز جنازہ بھی انشاء اللہ