خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 987 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 987

خطبات طاہر جلد 14 987 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء Profession میں یا یونیورسٹی کے دوسرے امتحانات میں یا سکول کے یا کسی ٹیکنیکل ٹریننگ کے امتحان میں یعنی وہ جو کسب معاش کے لئے مختلف ذریعے بنائے گئے ہیں ان کی تربیت حاصل کر کے وہ کامیاب ہوئے ہیں اور بہت سے ان میں سے ایسے ہیں جن کو خدا کے فضل سے اچھی نوکریاں مل گئی ہیں یا آزاد تجارتوں کے موقعے ملے ہیں، آزاد اپنے ذریعہ معاش کو برکت دینے کے، بڑھانے کے موقع ملے ہیں تو یہ بھی نظر رکھیں کہ ان کے اندر بھی خدا تعالیٰ نے مالی قربانی کی تحریک پیدا کی ہے کہ نہیں۔اگر نہیں تو ان کو سمجھائیں پیار کے ساتھ ، ان کو کہیں کہ یہی وقت ہے آج یہ عہد کر لو کہ گھر میں پیسے لانے سے پہلے لازما خدا کا حصہ نکالو گے۔وہ نکالنا شروع کر دو آج تمہارے لئے زیادہ آسان ہے کیونکہ ابھی آغاز میں تھوڑے پیسے ملتے ہیں۔اگر تھوڑے پیسے دینے لگو گے تو پھر بڑوں کی بھی توفیق ملے گی۔اگر بڑی رقموں کی توفیق ملے گی تو لذتیں بھی خدا تمہاری بڑھائے گا اور پھر ایسا چسکا پڑ جائے گا کہ قربانی نہ دینا عذاب ہو جائے گا قربانی دینا چٹی نہیں بنے گا۔پس پیار اور محبت کے ساتھ ان نسلوں کی بھی تربیت کریں تا کہ خدا تعالیٰ دین کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ان کی نسلوں کو بھی توفیق عطا فرمائے اور یہی پیغام پھر آئندہ نسلوں میں بھی منتقل کرتے رہیں۔تو اس پیغام کے ساتھ جو اس گزرے ہوئے سال کی ذمہ داریوں سے تعلق رکھتا ہے اب میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔اب میں بعض مرحومین کا مختصر ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کی نماز جنازہ آج نماز جمعہ اور عصر کے جمع ہونے کے بعد پڑھی جائے گی۔ان میں سب سے پہلے تو مکرم و محترم چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر جماعت شیخو پورہ کا مختصر ذکر کرنا چاہتا ہوں۔بہت ہی مخلص اور فدائی انسان تھے اور خدا تعالیٰ نے ان کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ایسی ہر دلعزیز شخصیت تھی کہ اپنے کیا اور غیر کیا جوبھی ان کے قریب آتا تھا اس کا دل موہ لیتے تھے اور کسی جگہ میں نے کسی امیر ضلع کو اتنا ہر دلعزیز نہیں دیکھا جتنا چوہدری انور حسین صاحب کو شیخو پورہ ہی میں نہیں اس کے گرد و پیش میں بھی دیکھا ہے۔جب وہاں کبھی میں جاتا تھا تو دعوت دیا کرتے تھے وہاں کے دانشوروں کو، حکومت کے افسر، غیر افسر، وکیل، زمیندار سب کشاں کشاں چلے آتے تھے۔کبھی کسی نے اس بارے میں خوف محسوس نہیں کیا کہ احمدیت کی تبلیغ ہونی ہے وہاں سوال و جواب ہوں گے ہم کیوں شامل ہوں ، سارے آیا کرتے تھے