خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 979
خطبات طاہر جلد 14 979 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء نہیں اپنی ذات پر گزرنے والے لمحے کے انجام کی بھی خبر نہیں۔ہمیں بسا اوقات ایسے خطرات سے آگاہ فرما دیتا ہے جن کے متعلق ہمارا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا اور تفصیل بتائے بغیر دعاؤں کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔اور دل میں ایک بات گاڑ دیتا ہے جو میچ کی طرح گڑ جاتی ہے کہ کچھ ہونے والا ضرور ہے اور اس کے مطابق جب مومن دعائیں کرتا ہے اور گریہ وزاری کرتا ہے تو پھر خود ہی غیب سے، آسمان سے فرشتوں کی فوجیں اتارتا ہے اور وہی عاجز، بے بس اور دفاع کی طاقت سے عاری مومنوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔پس یہ جو سلسلہ نشانات کا شروع ہوا ہے یہ ابھی اور آگے بڑھے گا۔اور جہاں تک دشمن کی اس دھمکی کا تعلق ہے کہ ہم دوبارہ آئیں گے میں آج کھل کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ وہ لاکھ سال زندہ رہیں وہ چیز نہیں دیکھ سکتے جس کی امید لئے بیٹھے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ آنے والا سال ملاں کا سال ہوگا اور احمدیت کے معاندین کا سال ہوگا۔اس سے پہلے بھی ایک دفعہ یہ اعلان کر بیٹھے تھے، اس سے پہلے بھی جلسہ سالانہ میں میں ان کو جواب دے چکا تھا کہ تم لاکھ دفعہ مرو، لاکھ دفعہ جیو، وہ سال کبھی طلوع نہیں ہو گا کہ احمدیت کا سال نہ ہو اور تمہارا سال ہو، یہ ناممکن ہے۔ہر گز نہیں ہو سکتا۔خدا کی تقدیر یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ ہر سال احمدیت کے حق میں ایک نئی شان لے کر آئے گا۔ہر سال احمدیت کا سال ہوگا۔پس وہ جس کے انتظار میں ہم بیٹھے تھے وہ بات تو ہماری توقع سے بھی پہلے پوری ہوگئی لیکن ابھی سال کے دن باقی ہیں۔اس لئے آپ کو دعاؤں کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ تائیدی نشان دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دشمن کے شر سے بچانے والا نشان ہے وہ تو بڑی شان کے ساتھ ، بڑی آب و تاب کے ساتھ ظاہر ہو چکا ہے لیکن اس کے علاوہ بعض تائیدی نشان مثبت رنگ کے ہوتے ہیں غیر معمولی کامیابی ، غیر معمولی فتح، وہ نشان دیکھنے کے ابھی دن باقی پڑے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ عالمی بیعت کے وقت خدا تعالیٰ اس پہلو سے بھی ہمیں نشان دکھائے گا۔لیکن خدا کے دینے کے ہاتھ لا محدود ہیں۔غیب سے جو عطا ملتی ہے اسے کون کہہ سکتا ہے کہ کہاں سے آئے گی اور کیسے آئے گی۔پس یہ دعا ئیں جاری رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم کے ساتھ غیب سے ہماری مدد کے سامان فرماتا رہے اور ایسی ایسی نعمتیں اور فتوحات کی خوشخبریاں عطا کرے جن خوشخبریوں کو پھر اپنی آنکھوں کے سامنے پورا ہوتے بھی دیکھیں اور اس طرح احمدیت کی فتوحات کا زمانہ لامتناہی ،نئی شان کے ساتھ ہمیشہ آگے بڑھتا رہے۔(آمین)