خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 978
خطبات طاہر جلد 14 978 خطبہ جمعہ 29 دسمبر 1995ء ہیں ان نتائج سے جن کی توقع لے کر یہ بیٹھے ہوتے ہیں۔پس ایک بہت ہی خوفناک سازش جو پاکستان کے خلاف کی گئی تھی اس پر سے اسی سال ایک پردہ اٹھا ہے اور میرے اس اظہار کے بعد کہ میرے نزدیک کوئی عظیم نشان بعد گیارہ پاکستان میں ظاہر ہونا ہے اس کا ایک پہلو تو ظاہر ہو گیا ہے، ایک نہایت خوفناک سازش فوجی بغاوت کی گئی تھی جو اس نوعیت کی تھی کہ ناممکن تھا کہ وہ اگر تھوڑی دیر کے لئے کامیاب ہوتی بھی تو بغیر فساد کے بجھ سکتی۔لا زما اس صورت میں پاکستان کی فوج میں خطر ناک لڑائیاں شروع ہونی تھیں اور پاکستانی فوج کا مزاج اس سازش کو قبول کر ہی نہیں سکتا تھا۔سارا ملک خانہ جنگی میں دھکیل دیا جا تا اور ان حالات میں کہ جب کشمیر کا فتنہ موجود ہے، ہندوستان اور پاکستان دونوں ایک دوسرے سے خطرات محسوس کر رہے ہیں، ان حالات میں اگر یہ واقعہ ہو جاتا تو ایک عام تباہی مچ جانی تھی ، اس ملک کا کچھ بھی باقی نہ رہتا۔پس اللہ کا بے انتہاء احسان ہے کہ اس نے وقت کے اوپر ان دعاؤں کی تحریک میرے دل میں ڈالی اور ہمیں کچھ بھی علم نہیں تھا کہ سازش کیا ہو رہی ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے جس کی نظر تھی سازش کے ہر کونے پر ، ہر گوشے پر اپنے اس وعدے کو پورا فرمایا کہ تمہیں پتاہی نہیں کہ دشمن تمہارے لئے کیا سوچتا ہے۔مجھے پتا ہے میں ہی تدبیر کرتا ہوں اس کے خلاف۔ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا کہ جماعت احمد یہ خدا کی حفاظت میں اور خدا کے امن کے سائے تلے ہے۔ہمیں کچھ بھی خبر نہ ہو کہ دشمن کیا کر رہا ہے اور کیا تدبیریں کر رہا ہے، کیا سوچ رہا ہے اور خدا کے علم میں ہوتا ہے اور خدا ان تدبیروں کو ان کے منہ پر ردکر کے مارتا ہے اور ان کی سازشوں کو ان پر الٹا دیتا ہے۔پس وہ لوگ جو انتظار کر رہے ہیں کہ یہ نشان کب ظاہر ہوگا ایک پہلو تو ظاہر ہو چکا ہے اور بڑی شان کے ساتھ ظاہر ہوا ہے اور اس کے اندر پلنے والی اور سازشیں بھی تھیں اور ان کا براہ راست جماعت سے تعلق تھا۔اب وقت آئے گا تو پھر جب پر دے اٹھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز طور پر آسمان سے جماعت کی حفاظت کے سامان فرمائے ہیں ورنہ بہت ہی خطر ناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا۔مگر وہ کرنا پڑتا بھی تب بھی جماعت کا کچھ نہ بگڑتا اس میں بھی مجھے ذرہ بھی شک نہیں ہے۔مگر بہت تکلیف میں سے گزرنا پڑتا اس میں بھی شک نہیں۔تو اللہ تعالیٰ غیب سے حالت پر نظر رکھ رہا ہے، غیب کے حالات پر نظر رکھ رہا ہے اور ہم عاجز بندوں کو جن کو کچھ بھی علم