خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 980 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 980

خطبات طاہر جلد 14 980 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 1995ء اس کے علاوہ ایک اور خیال بھی آتا ہے کہ اگر اس کو ہجرت کے ساتھ نہ باندھا جائے بلکہ اس سال کے ساتھ باندھا جائے جس سال شرارتوں نے آغاز پکڑا تو وہ 1984ء کا سال تھا۔اس پہلو سے یہ 1995 ء کا سال جو ختم ہو رہا ہے یہ گیارھواں سال بنتا ہے جو ختم ہوگا اور گیارھواں سال ختم ہونے کے بعد جو 1996 ء کا سال ہے وہ بہت ہی برکتوں کا سال اور غیر معمولی کامیابیوں والا سال قرار پاتا ہے۔اگر میرا یہ استنباط درست ہے کیونکہ ظاہر بات ہے کہ الہام تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے جو سو سال سے بھی پہلے سے نازل ہو چکا ہے۔ہم استنباط کر رہے ہیں اور جہاں تک استنباط کا تعلق ہے اس کا ایک پہلو تو خدا نے بڑی شان سے پورا کر دیا۔وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ کس پہلو سے کس طرح پورا ہوگا لیکن اچانک اللہ تعالیٰ نے دل میں ڈالی کہ تم تو انتظار کر رہے ہو وہ بات تو پوری ہو چکی ہے اور بہت بڑی سازش تھی ، بہت ہی بھیانک سازش تھی ، ملک کے ٹکڑے اڑا دینے تھے اس سازش نے۔اللہ تعالیٰ نے بر وقت متنبہ کر دیا فوج کو اور اس نے اپنے یونٹ فوج کی حیثیت سے اپنی شخصیت کو اور پاکستان کی حیثیت سے اس ملک کو بچائے کی فوراً موثر کارروائی کی ہے۔شریروں نے بہت بہت روکیں ڈالیں ، بہت ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کیں، اسلام کا نام بیچ میں گھسیٹا کہ اس سے مرعوب ہو کر یہ جوابی انسدادی کارروائیوں سے ڈر جائیں گے مگر جسے خدا ہمت دیتا ہے یا جس تقدیر کے تابع ایک بات کو کھولتا ہے لازماً اس کی پھر توفیق بھی عطا فرماتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کا بے انتہاء احسان ہے کہ اس نے پاک فوج کو اپنی اجتماعیت کو محفوظ کرنے کی توفیق بخشی۔اس فوج کے خلاف سازش کو کلیۂ رد کر دینے کی توفیق بخشی اور جھوٹی دھمکیوں سے یہ مرعوب نہیں ہوئے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو جو فائدہ پہنچا ہے جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں عام آدمی کو تصور ہو اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو جو فائدہ پہنچا ہے جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں عام آدمی کو تصور نہیں ہے کہ کتنا بڑا خطرہ تھا اور کتنا بڑا فائدہ پہنچا ہے۔بلا شبہ اس کے نتیجے میں فوج نے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا تھا۔جو سکیمیں تھیں ان لوگوں کی وہ مسکیمیں جڑوں کے لحاظ سے گہری زیادہ نہیں تھیں۔چند آدمیوں کے دلوں میں چند مولویوں کے دل میں اس کی جڑیں تھیں۔عام فوج کے مزاج سے بالکل مختلف مزاج تھا۔عام پاکستانی کے مزاج سے مختلف مزاج تھا جو اس انقلاب کو دیا جانا تھا اور ناممکن تھا کہ فوج کی اعلیٰ سیادت اس کو قبول کر لیتی۔اس لئے کہ وہ کور کمانڈر کے لیول پر اور اسی طرح