خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 947 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 947

خطبات طاہر جلد 14 947 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء ہے یہ پردہ نور کی تجلیات سے تعلق میں ہے۔جو خدا تعالیٰ کی ذات کا نور ہے جونور کے پردے میں مخفی ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ اس نور کو جو پردہ نور کے پیچھے چھپا ہوا ہے اس ذات الہیہ کو حضرت رسول اللہ ﷺ نے گویا اپنی بدنی آنکھوں سے دیکھا صلى الله تھا، کہیں اشارہ بھی ذکر نہیں ملتا۔یہ وہ نور کی تجلی ہے جس نور کا ذکر رسول اللہ علیہ فرما چکے ہیں صلى الله اور بتا چکے ہیں کہ یہ سب پردے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی کی تشریح میں حضرت سلیمان اور ملکہ سبا والے واقعہ کو بیان کر کے خود فرماتے ہیں کہ جو اصل نورالہی ہے اس کو تو کوئی دیکھ سکتا ہی نہیں۔عام دنیا کی چیزوں میں جب خدا کو جلوہ گر دیکھتے ہیں تو جو دکھائی دے رہا ہوتا ہے ہم اسی کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں اور یہ غلطی ہے۔نور بہر حال پیچھے ہے جس کی حرکت سے دنیا کا ہر جلوہ دکھائی دیتا ہے اور اسی سے پیدا ہوتا ہے۔بہر حال اس مضمون میں آگے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: مگریہ مرتبہ ترقیات کاملہ کا انتہائی درجہ نہیں ہے“ جو مرتبہ عطا ہوا ہے موسیٰ کو اور اس سے ملتے جلتے مراتب یہ ترقیات کاملہ کا انتہائی درجہ نہیں۔ہے۔انتہائی درجہ وہ ہے جس کی نسبت لکھا ہے کہ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى (النجم: 18) جس کے متعلق لکھا ہے کہ نظر نے دھوکہ نہیں کھایا۔وَمَا طَغَی اور کجی نہیں دکھائی اس چیز میں جو اس کو دکھائی دی۔اتنا حصہ پڑھنے کے بعد یہ اثر پڑتا ہے کہ پہلے جو تجلیات نور کا ذکر تھا اس سے ہٹا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس طرف لے جارہے ہیں کہ باقی انبیاء نے تو خدا تعالیٰ کے اس نور کو دیکھا جو مخلوق کے لئے مقدر تھا یا مخلوق کے اعلیٰ مظاہر کے لئے یعنی انبیاء کے لئے اس کی رویت مقدر صلى الله تھی ، ان کی طاقت میں تھی۔مگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اس سے بڑھ کر ظاہری آنکھوں سے بھی گویا خدا کو دیکھ لیا ، یہ ترجمہ درست نہیں ہے ، کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے ساتھ آگے بھی کچھ لکھ رہے ہیں۔فرمایا۔”انسان زمانہ سیر سلوک میں اپنے واقعات کشفیہ میں بہت سے۔عجائبات دیکھتا ہے اور انواع و اقسام کی واردات اس پر وارد ہوتی ہیں مگر اعلیٰ مقام اس کی عبودیت ہے جس کا لازمہ صحو اور ہوشیاری ہے اور سکر اور شطع سے