خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 946
خطبات طاہر جلد 14 946 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء صفات الہیہ کی روحانی جلوہ گری جو انسان کے لئے یعنی انسان کامل کے لئے مقدر تھی حضرت موسی کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔یہ مراد ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں بلکہ تجلیات صفات الہیہ جو بغایت اشراق نور ظہور میں آئی تھیں اشراق نور ، نور جب چمک اٹھتا ہے اور ہر طرف پھیل جاتا ہے اس کو کہتے ہیں اشراق اور بغایت جو حد تک،اس حد تک جو انتہائی حد ہے اس حد تک جو نو را چانک پھوٹ پڑے اور تمام ماحول کو، تمام سمتوں کو منور کر دے، تمام اطراف کو منور کر دے، ایسا نور جو غیر معمولی قوت سے پھوٹا ہو وہ تجلی ان لوگوں کو دکھائی دے نہیں سکتی جن کی آنکھیں اس انتہائی نور کی انتہائی جلوہ گری کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی ہوں جو محمد رسول اللہ اللہ کے لئے مقدر تھا۔یہ مراد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمار ہے دو ہیں کیونکہ ہر سمت میں نور پھیلا تو تھا مگر ہر سمت میں وہ آنکھ نہیں تھی جو اس نور کی متحمل ہو سکتی۔پھر فرماتے ہیں ظہور میں آئی تھیں وہ اس کا موجب اور باعث تھیں، یعنی جلوہ خود پردہ بن گیا تھا۔وہ جلوے کی انتہا خود نظر کے لئے پردہ ثابت ہوئی اور یہ واقعہ ہے کہ اگر اچانک روشنی اپنا تموج دکھائے غیر معمولی جولانی دکھائے تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور نظر اندھی ہو جایا کرتی ہے۔تو اندرونی کسی بنیادی روحانی نقص کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا تھا یا بدنی کمزور کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا تھا بلکہ یہ ایک روحانی کیفیت تھی جو ان کی روحانی استطاعت سے بڑھ کر تھی۔یہ بات جو حضرت مسیح موعود اس مضمون میں واضح فرمارہے ہیں ،مگر کس لطیف انداز میں، کہتے ہیں اس کا موجب اور باعث تھیں جن کی اشراق تام کی وجہ سے ایک عاجز بندہ عمران کا بیٹا بے ہوش ہو کر گر پڑا عاجز بندہ، عمران کا بیٹا اس کی کہاں طاقت تھی ، اس میں کہاں تاب تھی کہ وہ جلوہ دیکھ سکے جو اشراق تام کا جلوہ ہے۔پھر فرماتے ہیں اگر عنایات الہیہ اس کا تدارک نہ فرمایا کرتیں تو اسی حالت میں گداز ہوکرنا بود ہو جاتا“ اسی حالت میں پکھل کر وہ نیست میں چلا جاتا، جو تھا وہ نہ رہتا، کچھ بھی نہ ہوتا اسکا۔نابود کا لفظی ترجمہ ہے جو نہیں تھا۔جو تھا وہ ایسا ہو گیا گویا نہیں تھا یہ کیفیت ہو جاتی۔اب دیکھیں یہ جو کیفیت