خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 948
خطبات طاہر جلد 14 948 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1995ء بکلی بیزاری ہے۔“ (مکتوبات احمد جلد 1، صفحہ: 521) یہ جو مضمون ہے اس کا اب خلاصہ میں یہاں اس وقت بیان کر سکتا ہوں۔آپ کی مراد یہ ہے کہ انسان جب خدا کو دیکھتا ہے تو وہ حالت کشفیہ ہوتی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں لیکن حالتِ کشفیہ میں دو قسم کے تجارب دیکھنے میں آتے ہیں۔عباس علی شاہ جو بعد میں مرتد ہو گیا تھا شروع میں اس کا جو معاملات میں چھان بین کرنا تجسس کرنا، معاملات کی تہہ تک اتر نا ایسا رنگ اختیار کئے ہوئے تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس سے نیک توقعات بھی وابستہ ہوئیں مگر اس کی بد نصیبی کہ وہ پھر زمین کی طرف جھک گیا اور ان صفات سے فائدہ نہ اٹھا سکا جو اس کے رفع کا موجب بن سکتی تھیں۔اس لئے عباس علی شاہ کا ذکر کرتے ہوئے مجھے آپ کو بتانا چاہئے کہ یہ اس کا پس منظر ہے۔اس نے ایک خط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کہ وہ لوگ جو صوفیا ہیں اور اپنی ذات میں غرق ہو کر خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے کی طرف توجہ کرتے ہیں ان پر ایک ربود گی سی طاری ہو جاتی ہے اور نیند کی سی حالت اور کیفیت ہوتی ہے۔مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ اگر تم نیند کی کیفیت محسوس کرو تو نماز کے قریب تک نہ جاؤ تو ان دو باتوں میں کیا تضاد ہے؟ یہ مضمون ہے جس کو کھولتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ مثالیں پیش فرمائی ہیں۔خلاصہ مطلب یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ جونور کی جلوہ گری سے ربودگی پیدا ہوتی ہے وہ عبودیت سے پیدا ہوتی ہے اور اس کے سوا جو غنودگی ہے وہ دنیا داری ہے اور مردنی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ دراصل یہ دیکھنا ہوگا کہ نیند کا سا نشہ یا غنودگی جس کو کہتے ہیں وہ کس باعث سے ہوئی ہے۔کیا وہ خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کی محبت کے نتیجے میں ہوئی ہے یا دنیا داری کے نتیجے میں ہوئی ہے۔اگر وہ دنیا داری کے نتیجے میں ہے تو وہ محض موت ہے اور اس حالت میں تم نماز کے قریب تک نہ جاؤ اور اگر اس وجہ سے ہوئی ہے کہ تم خدا کی محبت میں ڈوب کر اس کے سرور میں غائب ہو گئے ہوتو وہ ربودگی اور قسم کی چیز ہے۔اس حالت میں تو انسان کی بینائی اور روشن ہو جاتی ہے اور اسی حالت میں اللہ کا جلوہ انسان دیکھ سکتا ہے اور دیدار الہی کی وہ تو فیق پاتا ہے جو عام انسان کو میسر نہیں آسکتی اور اس کا تعلق عبودیت سے ہے، تکبر سے نہیں ہے۔پس اہل تکبر بھی ایک غفلت کی حالت میں رہتے ہیں اور اہل انکسار بھی ایک قسم کی غفلت کی