خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 884
خطبات طاہر جلد 14 884 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء ہے۔چنانچہ آنکھ کے اندھے نہ بھی ہوں اگر روشنی سے محروم ہوں تو آنکھ کے اندھوں کی طرح ہی ہوتے ہیں۔روشنی کے بغیر ان کو کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔پس آنحضرت ﷺ کی عظمت کو سمجھنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھ سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ اللہ نے آپ کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام تر جلوے سے اس طرح فیض یاب ہونے کی توفیق بخشی جیسا کہ چاند کو توفیق ہوتی ہے کہ سورج کی روشنی کو اپنے اندر لے اور آگے منعکس کرے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھ سے جب دیکھا جائے تو محمد رسول اللہ ﷺ کیا دکھائی دیتے ہیں یہ ہے مضمون جو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں۔نور ہی نور ہیں مگر کن معنوں میں نور ہیں۔فرماتے ہیں۔۔۔۔بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد دو تک پہنچ جائے کہ حطیہ ادراک سے باہر ہو اور خلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اور حسن اختلاط یا نرمی و تلطف ، ملائمت ( جیسا کہ عوام الناس خیال کرتے ہیں ) مراد نہیں ہے۔۔۔اب ایک فقرہ بھی سمجھانے کے بغیر عام قاری کو سننے والے کو سمجھ نہیں آسکے گا۔اس لئے کہ ایک تو جتنا مشکل مضمون ہو اتنی زبان میں ساتھ مشکل ہوتی چلی جاتی ہے اس کے مناسب حال زبان استعمال کرنی پڑتی ہے اور اردو کا عام معیار ایسا نہیں ہے کہ علمی اصطلاحوں کو یا گہرے مشکل الفاظ کو جو زیادہ علم سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں ان کو آسانی سے سمجھ سکے۔پس اس لئے آہستہ روی بھی ضروری ہے صرف تازہ روی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اب تازہ روی سے کیا مراد ہے۔ایک انسان کسی انسان سے ملتا ہے تو اسے تازگی کا احساس ہوتا ہے اور ایک انسان سے ملتا ہے تو بوسیدگی کا احساس ہوتا ہے۔اس کے چہرے پر ہی نہوست سی آئی ہوتی ہے اور اس کو مل کر طبیعت میں بشاشت نہیں پیدا ہوتی۔پھر تازگی جیسے پھولوں کی تازگی ، جیسے بہار کی تازگی ہے جو ہر نباتات پر ظاہر ہو جاتی ہے۔اسی طرح تازگی بھی نسبتا کم اور نسبتاً زیادہ ہوا کرتی ہے۔موسم بہار کی تازگی ہر چیز کو سمیٹ لیتی ہے۔پس آپ کی چال ڈھال ، آپ کی ہر حرکت اور سکون میں بھی لیکن لفظ روش کا استعمال ہوا ہے اس لئے یوں کہنا چاہئے آنحضرت ﷺ کے اخلاق جو آپ کے چہرے اور بشرے سے ظاہر اور باہر تھے جو ہر وقت متحرک دکھائی دیتے تھے ان میں تازگی پائی