خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 883 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 883

خطبات طاہر جلد 14 883 خطبہ جمعہ 24 /نومبر 1995ء عَلى شَاكِلَتِه (بنی اسرائیل: 85) کے لفظ میں شَاكِلَتِہ کے تابع بیان فرمایا گیا ہے کہ ہر چیز کی شاكلته بنادی گئی ہے۔اس شاکلیہ کے اندر رہتے ہوئے وہ عمل کر سکتا ہے اس سے باہر قدم نہیں رکھ سکتا۔پس ہر چیز کو ہم عظیم کہتے ہیں اس کی شاکلیہ کے تعلق میں کہتے ہیں ، اس کے حدود اربعہ کے تعلق میں کہتے ہیں جو حدوداربعہ خدا تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرما دیا ہے اور ایک ہی ذات ہے جس کا کوئی حدوداربعہ نہیں ہے۔مرضی اللہ کی ذات۔پس وہاں عظیم لا انتہا، غیر متناہی جس کی کوئی حد نہیں ہے، کوئی بس نہیں اور انسانوں پر یا دوسری مخلوقات پر یہ لفظ جب صادق آئے گا تو ان میں جتنا بھی بڑے ہونے کی طاقت موجود ہے یا صلاحیت عطا کی گئی ہے اس حد تک کوئی پہنچ جائے تو اسے کہتے ہیں عظیم ہے اور وہ حد بسا اوقات ایسی ہوتی ہے کہ عام آدمی اپنے نظر سے اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔پہاڑ بھی عظیم کہلاتے ہیں مگر ایک ملک کا پہاڑ بھی عظیم کہلاتا ہے ایک دوسرے ملک کا پہاڑ بھی عظیم کہلاتا ہے اور جب ہم پہاڑ کے دامن میں جا کر اس کی عظمت کا نظارہ کرتے ہیں تو بیک وقت اس سارے پہاڑ کی عظمت کا احاطہ نہیں کر سکتے۔پس عظمت میں جو نسبتا ادنی درجہ کے کے دیکھنے والے ہیں اس احاطے کا امکان نہیں ہوتا ممکن ہی نہیں ہوتا ادنیٰ درجے سے دیکھنے والوں کے لئے کہ وہ اس کا احاطہ کر سکیں۔پس آنحضرت عیہ چونکہ نوع انسانی میں اس درجہ کمال پر واقع ہوئے ہیں جہاں نوع انسانی کی آخری حد تھی۔اس لئے آپ کے حوالے سے عظیم کا مطلب حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ ثابت فرما رہے ہیں کہ اخلاق جس حد تک بھی انسان کی شاکلہ میں ڈھل کر وسیع ہو سکتے تھے اور روشن ہو سکتے تھے۔وہ سارے آپ کی ذات میں روشن ہو گئے اور اس کا احاطہ بندہ نہیں کرسکتا کیونکہ جواد نی حالت پر واقع ہے وہ اس عظمت کو اپنے ادراک کے دائرے میں نہیں لا سکتا۔اس لئے اللہ ہی تھا جو گواہی دے سکتا تھا اور اللہ ہی ہے جس نے گواہی دی ہے اور یہ گواہی کسی اور کے لئے نہیں دی گئی، پس یہ وہ نور ہے جس کو سمجھنا ہے اور پھر نور کی تعریف کرنی ہے تو نور مانگنا بھی تو ہے۔نور اپنا نا بھی تو ہوگا اور ہر نور کے اپنانے کے لئے کتنے لمبے فاصلے طے کرنے ہیں، کتنی محنتیں اور مشقتیں کرنی ہیں، پھر نو ر کمایا جائے گا۔ورنہ فطرت میں موجود رہنے کے باوجود جب تک دوسرے نور سے جو باہر سے آکر فطری نور پر پڑتا ہے تعلق قائم نہ ہو جائے اس وقت تک اندر کا نور بھی اندھا ہی رہتا