خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 885
خطبات طاہر جلد 14 885 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء جاتی تھی، کو ئی تھکن نہیں تھی، کوئی بوجھ نہیں تھا۔نہ اپنی ذات میں محسوس فرماتے تھے ، نہ ملنے والے کو کچھ محسوس ہوتا تھا۔تو یہ تعریف تو عمومی فرما رہے ہیں لیکن حوالہ چونکہ آنحضرت ﷺ کا ہے اس لئے ظاہر ہے کہ یہ تمام صفات جن کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں یہ رسول اللہ ﷺ کی ذات میں ثابت تھیں۔اور حسن اختلاط ملنے جلنے کا بھی ایک انداز ہوا کرتا ہے۔بھونڈا اپن بھی اس میں ہوتا ہے کہیں توازن کھو دیتا ہے تو حد سے زیادہ بے تکلفی کہیں توازن کھو دیتا ہے تو بہت ہی دوری اور اجنبیت۔یہ ساری چیزیں اختلاط کے حسن کے مخالف ہیں۔اختلاط کا حسن یہ ہے کہ ملنا، اس طرح ملنا کہ اپنی ذات کو الگ قائم رکھتے ہوئے بھی ، اپنی ذات کو دوسرے کی ذات میں گھل ملا دینا مگر اس طرح کہ وقار قائم رہے اور یہ جو ملنا جلنا ہے اس میں گھٹیا پن دکھائی نہ دے اور اختلاط ایسا نہ ہو جو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کر جائے۔وہاں تک چلے جہاں تک اجازت ہے۔وہاں ٹھہر جائے جہاں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔تو اختلاط بھی ایک خلق کا نام ہے اور اس کو بھی اس میں داخل فرمایا ہے کہ کتب حکمیہ میں فرماتے ہیں، جو حکمت کی کتب ہیں ان میں لکھا ہے یہ اخلاق ہوتے ہیں۔خلق اس کو کہتے ہیں کہ تازہ روی ہو حسن اختلاط ہو نرمی و تلطف ، ملائمت یعنی نرمی اور لطف کا سلوک کرنا اور ملائمت کہ بات کھر دری محسوس نہ ہو۔وو۔۔جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں مراد نہیں ہے بلکہ خلق بفتح خا اور خلق بضم خا دولفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل واقع ہیں۔۔۔“ جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں مراد نہیں ہے۔یہ مطلب بنے گا کہ قرآن کریم میں یہ جو باتیں بیان ہوئی ہیں اس کا جو مفہوم عوام الناس لیتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔بات درست ہے قطعی طور پر ،اگر قرآن نے بیان کی ہے تو اس کے غیر درست ہونے کا تصور ہی نہیں پیدا ہوسکتا پھر اس بریکٹ کا یہ مطلب بنا کہ اس کا جو معنی عامتہ الناس سمجھتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔میں اب تفصیل سے بتاتا ہوں کہ وہ معنی کیا ہے۔اس مضمون میں داخل ہوتے ہوئے آپ نے خلق اور خلق دو الفاظ کو الگ الگ پیش کر کے ان کے معانی کو ہمیں سمجھا دیا اور فرمایا کہ جب خلق کہا جاتا ہے تو یہ مطلب ہوتا ہے، خلق کہا جائے تو یہ مطلب ہوتا ہے اور جو تعریف حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں خلق کی