خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 882 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 882

خطبات طاہر جلد 14 882 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء الله حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی راہ ہے جو دکھائی گئی ہے۔آپ کو وسیلہ بنایا گیا ہے۔پس محض نور نور کہہ کر یہ نہ سمجھو کہ تمہارے دل یہ بار بار کہنے سے ہی روشن ہو جائیں گے۔سمجھو تو سہی کہ کیا کہہ رہے ہو اور دیکھو یہ نور تمہارے اندر آ بھی سکتا ہے کہ نہیں۔آسکتا ہے تو کیسے؟ اگر تمہاری استطاعت میں نہیں تھا تو خدا یہ کیوں کہتا کہ یہ وسیلہ بنا دیا گیا ہے۔تم میں سے ہر ایک کی استطاعت میں ہے کہ وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے نور سے روشن ہو جو ا ؤل طور پر اللہ کا نور ہے اور آپ کی ذات میں اس حد تک جلوہ گر ہوا ہے جس حد تک انسان میں یہ صلاحیت ہے کہ خدا کے نور کو اپنی ذات میں سمو سکے اور اس کا جلوہ انسان کی صفات میں ظاہر ہو۔پس اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا جو میں نے آپ کو پڑھ کر سنایا۔اور یہ عظیم کی بحث یوں چلی ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: 5) کہ اے محمد ہے تو خلق عظیم پر واقع ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ عظیم لفظ کیا ہے پہلے اس کو تو سمجھو عظیم اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال ہوا ہے۔درختوں کو بھی عظیم کہ دیا جاتا ہے۔دریاؤں کو بھی عظیم کہہ دیا جاتا ہے۔پس عظیم، پہلی بات تو یہ ہے کہ تقابلی لفظ نہیں ہے جیسے ہم اکبر کہہ دیتے ہیں۔اکبر کا مطلب ہے سب سے بڑا عظیم میں کوئی مقابلہ ذہن میں نہیں آتا مگر اس کی ذات میں بے حد بڑا ہو نا شامل ہے۔اس تعریف کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھول رہے ہیں کہ جب کہا گیا کہ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ تو آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے متعلق ہم کیا تصور باندھیں ، کیا تھے؟ فرماتے ہیں: عظیم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا د نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔“ اب دیکھ لیں اپنا نوعی کمال کہہ کے کئی جھگڑے نپٹا دئے۔خدا بھی عظیم ، درخت بھی عظیم ، بندہ بھی عظیم ، پہاڑ بھی عظیم۔فرمایا لفظ عظیم میں تو تقابل ہے ہی نہیں۔اپنا ذاتی کمال اس حد تک پہنچ جائے کہ اس سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔تو ہر چیز جو ایک خاص حالت پر تخلیق ہے اس کے اندر اس کی صلاحیتیں اس طرح تخلیق کی گئی ہیں کہ ان کی حدیں بھی معین کر دی گئی ہیں۔وہ قُل كُلٌّ يَعْمَلُ