خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 881
خطبات طاہر جلد 14 881 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء سمجھیں کہ غلط مبحث ہو گیا ہے بات کچھ شروع ہوئی تھی اب کہیں اور جا پہنچی ہے۔نور ہی کو سمجھانے کے لئے یہ باتیں بتائی جارہی ہیں۔نور کا اس ظاہری آنکھ سے بھی ایک تعلق ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جو چیز چمکتی ہوئی دکھائی دے وہی نور ہے حالانکہ جو چمکنے والی لہریں جو نور کہلاتی ہیں ان کی نوعیت بھی ایسی ہے کہ ان کا اکثر حصہ آنکھ سے دکھائی دے ہی نہیں سکتا۔وہ بہت زیادہ ہے جو دکھائی نہیں دیتا جود کھائی دیتا ہے وہ اس نوع میں سے بھی بہت کم ہے۔پس آنکھ سے نور کا تعلق ایک سرسری تعلق ہے یا یوں کہنا چاہئے سرسری نہیں تو محدود ہے اور نور اس کے علاوہ ایسا بھی ہے کہ جو چمکتا دکھائی نہیں دیتا۔پس نور نظر جس سے باہر کا نور دکھائی دیتا ہے وہ بھی کسی کو چمکتا دکھائی نہیں دیتا۔بعض دفعہ زندہ انسانوں کی کھوپڑیاں بھی اتار دی جاتی ہیں اور دماغ اسی طرح کام کرتا ہوا نظر آتا ہے اور کہیں کوئی چمک دکھائی نہیں دیتی۔تو نور کا چمک کے ساتھ جو تعلق ہم نے باندھ رکھا ہے یہ اپنے محدود تجربے کی وجہ سے ہے ورنہ نور کا چمک سے براہ راست کوئی لازمی تعلق نہیں ہے اگر ہے تو ہم اسے نہیں سمجھ سکتے۔ہماری آنکھوں کو وہ صلاحیت عطا نہیں ہوئی کہ نور کی ہر قسم کو چمکتا ہوا دیکھ لیں۔پس اکثر نور ہماری نظر سے اوجھل رہنے والے نور ہیں لیکن جب ان کو دوسرے مضامین میں ڈھال کر دیکھیں تو عقل کا نور انہیں دیکھنے لگ جاتا ہے۔یہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے لئے آسان کر کے بیان فرما دیا۔یعنی نور کی وہ تشریحات بیان فرمائیں جن کو عقل کا اجتماعی نور دیکھتا اور پہچانتا ہے اور اس کی چمک دمک کو محسوس کرتا ہے۔اگر چہ ظاہری آنکھ کا وسیلہ بیچ میں کوئی نہیں ہے۔ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھا جارہا اور وہ صفات کا نور ہے۔پس صفات کے نور کو نور کہنے کے لئے بنیادی دلیل کیا ہے وہ یہ قائم فرمائی ہے کہ اللہ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (النور: 36) اللہ زمین و آسمان کا نور ہے اور اللہ کیا ہے ؟ اللہ صفات حسنہ کے مجموعے کا نام ہے۔وہ صفات حسنہ باری تعالیٰ جو دائمی ہیں اور جن کے اجتماع سے خدا بنتا ہے، ان میں سے ایک بھی نہ زائل کی جاسکتی ہے نہ باطل کی جاسکتی ہے، نہ وقتی طور پر ہٹائی جاسکتی ہے، نہ اس میں کوئی کمی کی جاسکتی ہے اور زیادتی کی گنجائش ہی کوئی نہیں کہ وہ پہلے ہی درجہ کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔تو یہ اگر نور ہے تو انسانوں نے نور بنا ہو تو کیسے بنیں۔اگر یہ نور ہے تو پھر اس نور کو اپنانے کے لئے انسانوں کو بھی تو کوئی راہ دکھائی گئی ہوگی۔