خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 880
خطبات طاہر جلد 14 880 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔"۔۔۔لفظ عظیم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔مثلاً جب کہیں کہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قدرطول وعرض درخت میں ہوسکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطہ ادراک سے باہر ہو اور خلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اور حسن اختلاط یا نرمی و تلطف ، ملائمت جیسا کہ عوام الناس خیال کرتے ہیں مراد نہیں ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 194) یہ عبارت ایک مضمون سے دوسرے مضمون میں داخل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔اس لئے میں اس کو کھول دوں کہ کیا بحث ہو رہی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس پہلو پر روشنی ڈال رہے ہیں۔آپ نے آنحضرت ﷺ کے نور ہونے کی تشریح فرماتے ہوئے یہ بتایا کہ آپ کے اخلاق حسنہ بھی نور تھے اور ایسا کامل نور تھے کہ وحی الہی کے شعلے کے نزول سے پہلے بھی وہ اخلاق حسنہ فی ذاتہ بھڑک اٹھنے اور روشن ہونے پر تیار بیٹھے تھے اور اخلاق کو نو ر کہنا کن معنوں میں ہے؟ اس کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دوسری جگہ خدا تعالیٰ کی صفات کے حوالے سے یوں بیان کرتے ہیں کہ اللہ وہ ذات ہے جس کی طرف تمام صفات لوٹائی جاتی ہیں۔ایک ہی یہ اسم ذاتی ہے جس کے اردگرد تمام صفات بلا استثناء گھومتی ہیں اور اسی سے حوالہ پاتی ہیں۔پس وہ تمام روشنی کی قسمیں جو مختلف النوع ہیں جب اکٹھی ہو جائیں تو وہ جو روشنی کی ایک اجتماعی شکل ظاہر ہوتی ہے اس کو نور کہا جاتا ہے۔پس صفات باری تعالی ہی کے ایک حسین اجتماع کا نام نور ہے۔وہی صفات ایسی ہیں جنہوں نے بندوں پر بھی پر تو فرمایا اور انسانوں کو بھی کچھ ایسی صفات عطا ہوئیں جو ذات باری تعالیٰ میں موجود تھیں ورنہ از خود انسان میں کچھ بھی نہیں تھا۔وہ صفات جب اپنی پوری شان سے جلوہ گر ہوئی ہیں اور ایک ذات میں سب نے اجتماع کر لیا ہے تو وہ محمدمصطفی امی کا وجود ہے جس میں یہ تمام صفات اکٹھی ہو ئیں اور پھر اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئیں۔یہ نور ہے پس یہ نہ