خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 865
خطبات طاہر جلد 14 865 خطبہ جمعہ 17 /نومبر 1995ء متحمل ہو سکتا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: 287) پس محمد رسول اللہ اللہ کی وسعتوں کا عظیم تر ہو جانا اور تمام بنی نوع انسان کی وسعتوں سے آپ کا دائرہ پھیل کر بڑھ جانا یہاں تک کہ ان تمام بنی نوع انسان کی صفات پر آپ کی وسعتیں محیط ہو جائیں۔یہ بات اس بات کا تقاضا کرتی تھی یہ موجب وحی ہے کہ آپ پر وحی نازل ہو جو اپنی وسعتوں میں کل عالمی ضروریات پر محیط ہو جائے ، تمام بشری ضروریات کو پورا کرنے والی اور ان کے تمام سوالات کا جواب رکھتی ہو۔پس وحی کا صاحب وحی کے مطابق ہونا یہ معنی رکھتا ہے اور اسی لئے ہر نبی کی وحی کا دائرہ مختلف ہے اور اس کے نور کی چمک میں بھی فرق ہے حالانکہ نوراللہ ہی کا ہے جس سے وہ روشن ہوتے ہیں۔اب تیلوں کو دیکھ لیں ایک تیل کو جلائیں اس کی روشنی اور طرح کی ہوتی ہے دوسرے تیل کو جلائیں اس کی روشنی اور طرح کی ہوتی ہے۔وہ کیمیا جن کو روشن کیا جاتا ہے ان میں سے بعض کیمیا ہیں جن کی روشنی بہت ہی تیز سفید ہوتی ہے جیسے سورج کی روشنی ہو۔کیلشیم کا رہائیٹ کے جو چراغ جلتے ہیں لاہور میں مونگ پھلیاں بیچنے والے یا اس قسم کے بھنے ہوئے دوسرے Nuts بیچتے ہیں کئی دفعہ اس کے اوپر ان کا چراغ رکھا ہوتا ہے وہ بالکل لگتا ہے دن کی روشنی ہے۔ربوہ میں جب بجلی نہیں آئی تھی تو میں نے بھی بنایا تھا۔تو نور تو وہی ہے جو خدا نے ہر چیز کے اندر رکھا ہوا ہے مگر ہر چیز کے چمک اٹھنے میں اس کی اپنی صلاحیتیں بھی جلوہ گر ہوتی ہیں اور آگ تو سب کو اسی طرح جلاتی ہے اور روشن کرتی ہے مگر مادے کے فرق سے اس کی تجلی میں فرق پڑ جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے دوسرے انبیا کے تیل کو بھی ایک روحانی تیل کے طور پر شرف بخشا اور ان کو بھی روشن کیا لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کا تیل روشن ہوا ہے تو کل عالم روشن ہو گیا اس لئے کسی اور کو سراج نہیں فرمایا بلکہ آپ ہی کو سراج قرار دیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔فیضان وحی ان لطائف محمد یہ کے مطابق ہوا اور انہی اعتدالات کے مناسب حال ظہور میں آیا کہ جو طینت محمدیہ میں موجود تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر یک نئی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 193)