خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 866 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 866

خطبات طاہر جلد 14 866 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء کہتے ہیں تفصیل اس کی یہ ہے ”منزل علیہ وہ پاک نبی جس پر وحی نازل ہو رہی ہوتی ہے، اسے منزل علیہ فرما رہے ہیں جس پر وحی نازل ہوئی۔اس کی فطرت کے مطابق نازل ہوتی ہے اور اس کے مطابق نازل ہونا خود ایک فصاحت و بلاغت کا کرشمہ ہے کیونکہ فصاحت و بلاغت کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ جو متقصائے حال کے مطابق ہو۔اگر کسی بچے سے خطاب ہورہا ہو تو بچوں کی طرح بنا پڑتا ہے۔بعض دفعہ بچوں کی زبان میں تو تلا بھی ہونا پڑتا ہے اور جوکم فہم لوگ ہیں بسا اوقات وہ سمجھتے ہیں یہ وقار کے خلاف بات ہے کہ بچوں کی طرح حرکتیں کر رہا ہے۔حالانکہ اگر یہ وقار کے خلاف ہے تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے کہ انا عند ظن عبدی بی ،، کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تو اپنے بندے کے گمان اور اس کی سوچ کی توفیق کے مطابق ڈھل جاتا ہوں تبھی ہمارے اندر پیار کی باتیں چلتی ہیں اور نہ تو ناممکن ہے کہ کوئی شخص میر ورنہ میرے جیسا ہو سکے مجھے ہی اس جیسا ہونا پڑتا ہے۔ضمنا مجھے یاد آ گیا کہ ایک ہمارے جماعت احمدیہ کے مداح دانشور مجھے ملنے آئے۔انہوں نے کہا باقی باتوں میں تو مجھے اتفاق ہے لیکن یہ جو آپ نے بچوں کی کلاس یا اردو کی کلاس شروع کر رکھی ہے آپ کی شان کے خلاف ہے۔آپ کو ویسی حرکتیں کرنی پڑتی ہیں اور آپ کے منصب اور آپ کی شان کے خلاف ہے۔اس نے بڑی ہمدردی اور نیکی میں مشورہ دیا۔میں نے کہا جو باتیں میں نے خدا سے سیکھی ہیں ، خدا کے مزاج سے سیکھی ہیں تمہاری نظر میں یا کسی کی نظر میں خلاف ہوں یا نہ مجھے کوئی بھی پروا نہیں۔میں نے کہا گھر میں جو تم اپنے بچوں سے تو تلی باتیں کرتے ہو تو اس وقت تمہاری شان اس راہ میں کیوں حائل نہیں ہوتی۔جب ایک بادشاہ خواہ کیسا ہی صاحب منصب اور صاحب جلال ہو اپنے گھر میں اپنے چھوٹے سے بچے سے پیار سے باتیں کرتا ہے تو منہ بھی متلے بنالیتا ہے، اسی طرح کی حرکتیں کرتا ہے اور اس کی شان کے خلاف نہیں ہوتا۔اگر یہ شان کے خلاف ہو تو خدا کا اپنے کسی بندے سے تعلق نہ ہو سکے۔میں نے کہا میں تو مجبور ہوں اور تمہیں یہ بھی نہیں شاید پتا کہ ہمارے محبت کے رشتے چل رہے ہیں۔اگر میں یہ نہ سکھاؤں تو بہت سے دیکھنے والے ان مجالس میں آئیں ہی نہ اور تم لوگوں کو جو غیر ہو ، جماعت سے باہر، محبت بھی رکھتے ہو تو ان باتوں کی سمجھ نہیں ہے۔میں نے کہا مجھے یہ بھی احساس ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا ہے۔مثلاً آپ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ آپ نے اردو کی تعلیم با قاعدہ کالج میں حاصل نہیں کی نہ تعلیم