خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 864 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 864

خطبات طاہر جلد 14 864 علیہ الصلوۃ والسلام کے اس چھوٹے سے فقرے کی ہے کہ اس عقل کامل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں“ خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء تمام صفات محمدیہ ﷺ اللہ کی عقل کامل کے سرچشمے سے پروردہ ہیں۔پھر وحی کے نزول اور خصوصاً اس ذات پر نور الہی کا نزول اس طرح کہ یہ خود نور مجسم بن جائے یا نور مجسم کی طرح دکھائی دے اور اس سے پھر دوسرے نور روشن ہوں اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ان لطائف قابلہ پر وحی کا فیضان ہوا۔وہ لطائف جو اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئے محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں۔یہاں درجہ کمال سے مراد یہ ہے کہ آسمانی نور کے اترنے سے پہلے آسمانی نور نے جس درخت کی آبیاری کی ہے اس کے اندر لطیف صفات کی پرورش کی اور وہ لطیف صفات جب تیار ہو گئیں تو پھر وہ محتاج تھیں کہ آسمان سے بھی ایک نور نازل ہوتا۔اس کی تفاصیل آگے پھر آئیں گی تو آپ کے سامنے مضمون اور بھی کھل جائے گا اور فرماتے ہیں اور ظہور وحی کا موجب وہی ٹھہرئے“۔اب یہ عجیب بات ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ظہور وحی کا موجب قرار دیا ہے حالانکہ وحی ایک موہبت ہے جو آسمان سے اترتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس موہبت اور موجب وحی کے بظاہر متصادم مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے خوب کھول دیتے ہیں اور اس میں کوئی تضاد باقی نہیں رہتا۔مطابق ہوا۔اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فیضان وحی ان لطائف محمد یہ کے اس میں بہت سے مسائل حل ہو گئے جو بہت دیر مدتوں سے اہل علم وفکر کو الجھنوں میں مبتلا کئے رہے یعنی انبیاء کی وحی میں فرق کیا ہے، کیوں ہوا ہے؟ انہوں نے ایک ہی چشمے سے پانی پیا۔اس کی وحی مختلف ، اُس کی وحی مختلف۔اس کا انداز کلام مختلف ، اُس کا انداز کلام مختلف۔تو کیا مختلف خداؤں نے ان کی پرورش فرمائی ہے یا ایک ہی خدا کے فیض یافتہ ہیں ، پھر فرق کیوں ہے؟ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فیضان وحی ان لطائف محمدیہ کے مطابق ہوا اس میں دراصل وہی مضمون بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ویسا ہی بوجھ اس پر ڈالتا ہے جیسے بوجھ کا وہ