خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 863 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 863

خطبات طاہر جلد 14 863 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء نوربصیرت یا جو بھی اسے آپ کہہ لیں عقل کامل جو تمام حقائق کا سر چشمہ ہے جس میں کوئی تضاد نہیں ہے، جو تمام موجودات کی کنبہ ہے اس عقل کامل کے چشمہ صافی سے محمد رسول الله الا اللہ کا شجرہ طیبہ یعنی وہ زیتون کا درخت پرورش یافتہ تھا۔پس از خود کی بحث اٹھ گئی۔آغاز ہی سے آنحضرت ﷺ کی تخلیق خدا کے عقل کامل کے چشمہ سے ہوئی اور وہ جو درخت تھا جو عقل کامل سے فیض یافتہ ہو وہ دنیا کی کسی اور چیز سے فیض یافتہ نہ ہوا اس کا شفاف اور پاکیزہ ہونا باالبداہت ثابت ہے۔اب اس کا ایک اور تعلق بھی ہے۔جو دوسرے عام عقل والوں کے ساتھ اس مضمون کا تعلق ہے۔وہ جہاں تک حقیقی اور کچی عقل کا تعلق ہے اللہ ہی سے فیض یافتہ ہوتے ہیں مگر محض اس سے فیض یافتہ نہیں رہتے کچھ دنیاوی عقول کے چشموں سے بھی پانی پیتے ہیں، کچھ دنیاوی حکماء کی باتوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں ، کچھ اپنی تحقیقات سے بھی وہ فیض یافتہ ہوتے ہیں۔اس لئے خالصہ اللہ کی عقل کل سے فیض یافتہ ان کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔پس اس چشمے میں کچھ دوسرے پانی بھی آملتے ہیں۔ان معنوں میں آنحضرت ﷺ کو امی کہنا آپ کی ایک عظیم تعریف ہے اور یہی لفظ امی جب دوسری عرب قوم پر اطلاق پاتا ہے تو دوسرے معنے رکھتا ہے کیونکہ ہر لفظ اپنے موقع اور محل کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔ان کے معنوں میں یہ تھا کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں ہی نہیں ، نہ خدا سے نہ بندوں سے، نہ اللہ کی عقل سے انہوں نے تعلق جوڑا نہ اپنی عقل سے کچھ فائدہ حاصل کیا اور آنحضرت ﷺ نے چونکہ دنیا وی عقول کا استعمال نہیں کیا اور دنیاوی علوم کے چشموں سے پانی نہیں پیا اس لئے آپ کی نشو و نما خالصہ اس عقل کل سے ہوئی ہے جسے ہم خدا بھی کہتے ہیں اور عقل کل نے آغاز ہی سے آپ ﷺ کو پانی پلایا آپ کی آبیاری فرمائی اور اس پانی کو پی پی کر یہ شجرہ طیبہ بڑھا اور جوان ہوا اور اس نے شاخیں نکالیں اور پھول پھل لایا۔ان سارے مراحل سے گزر کر جب وہ اس مرتبے تک پہنچا ہے کہ اس سارے وجود کا عطر خالص ایک تیل کی شکل میں ظاہر ہو گیا یعنی آنحضرت ﷺ اپنی بلوغت کو پہنچے اور یہ وجود اس مقام پر پہنچا جب کہ درخت سے تیل الگ ہو کر ، صاف ہو کر نتھر کر باہر آنے لگتا ہے۔اس تیل پر وحی کا نزول ہوا ہے اور یہ وہ تھا تیل جو بھڑک اٹھنے کو تیار تھا۔اس لئے نہیں کہ انسان بذات خود اپنی عقل سے روشن ہوسکتا ہے اس لئے کہ شروع ہی سے عقل کل سے فیض یافتہ تھا۔یہ تفصیل ہے جو حضرت مسیح موعود