خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 862 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 862

خطبات طاہر جلد 14 بھی بیان کروں گا۔862 خطبہ جمعہ 17 نومبر 1995ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ فرما رہے ہیں کہ جو تیل ہے وہ خلاصہ ہوا کرتا ہے کسی چیز کی ذات اور درخت کا تیل اس کی صفات کا خلاصہ ہوا کرتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو تمثیل کے طور پر زیتون قرار دے کر جب اس کے تیل کی بات شروع کی تو مراد حضرت محمد مصطفی علیہ کی فطرت سلیمہ، آپ کی عقل آپ کی روحانی قوتیں اور وہ تمام صفات جو آپ کی ذات کا خلاصہ ہیں اور وہ صفات جو خود اللہ تعالیٰ کے کلام سے پروردہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور فضل کے نتیجے میں پروردہ ہیں یعنی آغاز میں بھی اللہ ہی کا فضل ہے اس نے ایک وجود پیدا فرمایا اور اس وجود کی ان صفات کو پوری طرح نشو و نما کی تو فیق عطا فرمائی۔پھر نشو و نما جب اپنے درجہ کمال کو پہنچی ہے تو ان کی کیفیت یوں بیان فرمائی کہ گویا وہ نور از خود بھڑکنے کے لئے تیار تھا یعنی آنحضرت ﷺ کی صفات حسنہ کا آسمانی نور کے ساتھ کامل اتصال ہے کیونکہ جب تک یہ اتصال نہ ہو اس وقت تک آسمانی نور اپنے درجہ کمال کے ساتھ آپ کی ذات پر نازل نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے یہ مثال کسی اور نبی کی وحی کے متعلق استعمال نہیں فرمائی گئی کہ وہ نور جو آپ کی صفات حسنہ کا خلاصہ تھا وہ از خود بھی چمکتا رہا مگر از خود ، لفظ دھو کے والا ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس انداز میں پیش فرمایا ہے اس از خود کا تصور اس میں سے غائب ہو جاتا ہے۔فرمایا ہے یہ مقدر بات تھی کہ اللہ ہی کے فیض سے تربیت یافتہ وجود تھا۔چنانچہ فرماتے ہیں ”جو اس عقل کامل کے " چشمہ صافی سے پروردہ ہیں وہ صفات محمد یہ جو اس عقل کامل یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات کی طرف اس عقل کامل“ کہہ کر اشارہ فرمایا ہے۔” اس عقل کامل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں“ خدا تعالیٰ کا جو حکمت کا ملہ کہلا سکتا ہے ہر عقل، ہر حکمت کا سرچشمہ وہی ہے۔اس چشمہ صافی سے جس شجرہ طیبہ نے فیض پایا وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا شجر تھا اور اس مثال کا استعمال فصاحت و بلاغت کا کمال ہے کیونکہ اگر مثال زیتون کے درخت کی تھی تو زیتون کا درخت بھی تو کسی پانی کا محتاج ہے۔وہ پانی کون سا تھا ، کہاں سے اترا تھا وہ زمینی پانی نہیں تھا بلکہ خدا تعالیٰ کا وہ پانی تھا جو اس کی عقل کا ملہ سے اترتا ہے۔ویسے تو ہر فیض خدا ہی سے ملتا ہے، جن لوگوں کو تھوڑی سی بھی عقل ملے ان کو بھی خدا ہی سے نور ملتا ہے لیکن محمد رسول اللہ اللہ کے تعلق میں خدا تعالیٰ کو عقل کامل قرار دینا بتا رہا ہے کہ اللہ کا جو