خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 849 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 849

خطبات طاہر جلد 14 849 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 1995ء کرنے کے لئے تقویٰ کی عینکوں کی ضرورت ہے۔اعلیٰ درجہ کی تقوی کی عینک لگا ئیں تو باریک سے بار یک چیز موٹی ہو کر آپ کی نظر کے سامنے ابھر آئے گی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لئے یہ باتیں دکھائی دے رہی ہیں کہ اس دور میں آپ سے بڑھ کر متقی کوئی نہیں تھا اور آپ کی آنکھ سے ہم بھی تو دیکھ سکتے ہیں کسی حد تک، اگر پوری طرح نہیں تو کچھ نہ کچھ شعوران نظاروں کا ہم کر سکتے ہیں۔جو مسیح موعود علیہ السلام نے کئے۔اسی لئے ان باتوں کو سمجھا کر، آپ کے لئے نسبتاً آسان بنا کر میں سامنے رکھ رہا ہوں اور امید رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہم سب کی وہ نظر تیز کرے جو الہی نور دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو جب خدا اسے دکھائے کیونکہ بذات خود الہی نور کو دیکھنے کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتا۔فرماتے ہیں: وو 66۔۔۔اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت بار یک صداقت ہے۔۔۔اب دیکھ لیجئے وہی مضمون ہے جو میں نے ابھی آپ کے سامنے رکھا تھا۔”۔۔۔اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت بار یک صداقت ہے اور دقائق حکمیہ میں سے ایک دقیق مسئلہ ہے۔۔۔“ کیونکہ یہ فیضان مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں جس کی میں بات کرنے لگا ہوں یہ ایک بہت بار یک صداقت ہے اور وہ دلائل جو حکمتوں سے تعلق رکھتے ہیں ان دلائل میں باریک ترین حکمتوں سے تعلق رکھنے والے دلائل ہیں جو میں آپ کے سامنے کھولنے لگا ہوں فرماتے ہیں:۔۔۔۔اس لئے خدا وند تعالیٰ نے اول فیضان عام کو (جو بدیہی وو الظہو ر ہے ) بیان کر کے پھر اس فیضانِ خاص کو جو بغرض اظہار کیفیت نور ،، حضرت خاتم الانبیا ﷺ ایک مثال میں بیان فرمایا ہے۔۔۔“ فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ مسئلہ آسان فرما دیا ہے۔پہلے نور عام کی بات کی جسے ہر کس و ناکس سمجھ سکتا تھا اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اس پر غور کرو تو واقعہ ہر آدمی کو سمجھ آ جائے گی کہ خدا کی منشاء اور اس کے ارادے کے بغیر کوئی چیز نہ بن سکتی ہے نہ قائم رہ سکتی ہے۔اس وقت تک رہے گی جب تک خدا چاہے گا اور اس کی تمام صفات مبنی ہیں اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں کیا صفات رکھی ہوئی ہیں۔جب تک ان صفات کی حفاظت فرماتا ہے اللہ یا اس کا قانون اس