خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 848
خطبات طاہر جلد 14 848 خطبہ جمعہ 10 نومبر 1995ء بات ہے جس کا اس مضمون سے تعلق ہے وہ یہ ہے کہ ان خطوں میں تعلیم کا فرق مظہر نہیں ہے تعلیم کوئی شرط نہیں ہے۔بعض بڑے بڑے تعلیم یافتہ لکھتے ہیں کہ کچھ نہیں پلے پڑا ، کچھ سمجھ نہیں آئی۔بعض بالکل ان پڑھ جو صرف لکھنا پڑھنا جانتے ہیں وہ حیرت انگیز طور پر سمجھتے بھی ہیں اور پھر تبصرہ ایسا کرتے ہیں جس سے صاف پتا چلتا ہے کہ ان کا دل روشن ہوا تھا تو یہ تبصرہ ہوا ہے اور اس سے اس مضمون کا تعلق ہے جواب میں بیان کرنے لگا ہوں۔آنحضرت ﷺ جو مخلوقات میں نور کامل تھے، تعلیم میں بالکل سب سے نیچے تھے بظاہر، ایک ایسی قوم میں جن کو پڑھنے لکھنے کا شوق ہی نہیں تھا اس قوم میں ایک بظاہر ان پڑھ کی صورت میں پیدا ہوئے اور اس کے باوجود اتنی ترقی کی کہ نور کامل کا مخلوق میں مظہر بن گئے۔اللہ کے نور کا مظہر کامل اگر دنیا میں کوئی ظاہر ہوا یا مخلوقات میں کوئی بھی نور بن کے چمکا تو حضرت اقدس محمد مصطفی اتے تھے۔پس ان باتوں کو جو لوگ عالمانہ باتیں کہتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اہل علم کی مجلس میں گفتگو ہونی چاہئیں ان کو میں سمجھاتا ہوں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی باتوں کا تمام بنی نوع انسان سے تعلق ہے اور کوئی یہ عذر نہیں رکھ سکتا کہ میں تعلیم یافتہ نہیں تھا میں اس لئے سمجھ نہیں سکا کیونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو کس نے تعلیم دی تھی۔یہ نور تقوی ہے جو روشنی عطا کرتا ہے، جو علم سکھاتا ہے، جو عرفان کو بڑھاتا ہے۔پس اگر کچھ دقت ہے تو اپنی نظر کی فکر کریں کیونکہ آسمان سے جو نو را تر تا ہے اگر بصیرت تیز ہوتو وہ دھندلا بھی دکھائی دے دیتا ہے اس کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں چونکہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں اس لئے دن کے وقت مجھ سے چلنا مشکل ہے، مجھے روشنی نظر نہیں آتی ، میری بہت معمولی تعلیم ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ میری تعلیم بہت ہے اس لئے اندھیرے میں میں صاف چلتا ہوں۔اس کا نور بصیرت سے تعلق ہے جس طرح مادی دنیا میں نو ر اعلیٰ نظر کا محتاج ہے اسی طرح روحانی دنیا میں بھی نظر کے صیقل ہونے سے مسائل آسان ہو جاتے ہیں۔پس نظر کی فکر کرنی چاہئے یعنی ان معنوں میں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نور بصیرت کو تیز کرے اور وہ چیزیں جو واقعہ بعض مراحل پر مشکل ہو جاتی ہیں مثلاً دور سے بعض بار یک چیزیں عام نظر کو دکھائی نہیں دیتیں تو اس پہلو سے بعض مضامین مشکل بھی ہو جاتے ہیں کہ بار یک باتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے لئے بار یک نظر کی ضرورت ہے لیکن وہ باریک نظر کی صلاحیت خدا نے سب کو عطا کی ہے اور اسے اجاگر صلى الله