خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 850 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 850

خطبات طاہر جلد 14 850 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 1995ء وقت تک وہ رہتی ہیں۔جب وہ حفاظت کا ہاتھ اٹھ جاتا ہے تو ضائع ہونی شروع ہو جاتی ہیں جب تک خدا کی تقدیر کے ڈیزائن میں کسی کے نور کے قائم رہنے کی مدت چلتی ہے اس وقت تک وہ چلے گی اس کے بعد جواب دے جائے گی۔انسان کے ڈیزائن میں اللہ کے نور کا دخل ہے اس کے بغیر انسان کی تصویر، اس کی تشکیل ہو ہی نہیں سکتی تھی اس ڈیزائن میں اللہ تعالیٰ نے یہ رکھا ہے کہ ایک وقت تک میں اسے بڑھاتا چلا جاؤں گا اس کی تمام صلاحیتیں چمکتی جائیں گی اور زیادہ طاقتور ہوتی چلی جائیں گی پھر ایک وقت آئے گا کہ وہ ڈھلنے لگیں کی اور جس طرح دن ڈھل جاتا ہے سورج غروب ہونے لگتا ہے اسی طرح وہ انسان واپس اپنی حالت کو لوٹنا شروع ہو جائے گا اسی کو بڑھاپا کہتے ہیں۔ایسا بڑھاپا جو تمام صلاحیتوں پر قابض ہو جائے اس کو ارذل العمر کہا جاتا ہے۔تو صلاحیتیں آتی ہیں ہٹتی ہیں مگر نور خدا انہیں ملتا اس لئے یہ صلاحیتیں نورِ خدا کہلانے کے باوجود نورِ خدا نہیں ہیں یعنی نو ر کا پر تو تو ہیں لیکن خود اپنی ذات میں نور نہیں ہیں۔اور جہاں تک اللہ کے نور کی کیفیت کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں وہ صرف ایک مثال کی صورت میں دیا جا سکتا تھا کیونکہ خدا کے نور کی کنبہ ،اس کی حقیقت ، اس کا فیض انسان کسی صورت پاہی نہیں سکتا۔اس کا فیض تو پاسکتا ہے اس کا عرفان حقیقی عرفان اس کا ادراک حاصل کر نہیں سکتا۔یہ انسان کی صلاحیتوں سے بالا بات ہے۔پس تمثیلات دے کر اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھاتا ہے اور سب سے اچھی مثال ، سب سے پیاری، سب سے پاکیزہ ،سب سے زیادہ صادق آنے والی مثال جو خدا کو نظر آئی وہ محمد رسول اللہ تھے اور صلى الله محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔تو فرماتا ہے: و, ”۔۔۔مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ اور بطور مثال اس لئے بیان کیا۔۔۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: رہے۔۔۔‘“ ”۔۔۔کہ تا اس دقیقہ نازک کے سمجھنے میں ابہام اور دقت باقی نہ اگر خدا تعالی محمد رسول اللہ اللہ کی مثال دے کر اپنے نور کو نہ سمجھاتا تو یہ اتنا باریک نکتہ تھا کہ انسان کے بس میں اس کا سمجھنا نہیں تھا اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ کی مثال کے حوالے سے ان باریک