خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 847
خطبات طاہر جلد 14 847 خطبہ جمعہ 10 نومبر 1995ء سے تعلق ہے۔بدی اس کے اذن اور اس کی رحمت سے بعض دفعہ اسی طرح فائدہ اٹھاتی ہے جس طرح نیکی فائدہ اٹھاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس مضمون کو دوسری جگہ یوں کھول دیا ہے کہ میں نے اچھی چیزیں جتنی بھی تھیں یہ دنیا میں تو نیک و بد دونوں کے استفادے کے لئے پیدا کی ہیں۔نیکوں کے لئے پیدا کیں مگر بد بھی فائدہ اٹھا ئیں گے لیکن مرنے کے بعد یہ چیزیں ان کے لئے مخصوص ہو جائیں گی جو میرے بندے بن کر، میرے بندے بننے کی حالت میں وفات پائیں۔وہاں نیک کے لئے خاص ہوں گی بدان سے محروم رہ جائیں گے۔یہ وہ افاضہ ء خاص ہے یہ وہ خاص رحمت ہے جوان بندوں پر نازل ہوتی ہے جو شیطان کے اثر کو قبول نہیں کرتے اور ان کے اس رحمت کے مستحق بننے کے لئے کچھ شرطیں مقرر ہیں، کچھ ایسے اعمال ان سے وابستہ ہیں جن کے نتیجے میں پھر یہ فیض خاص اترتا ہے ورنہ نہیں اترتا۔نور کی اس قسم کو اللہ تعالیٰ نے اس مثال میں ظاہر کیا جس میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ا نے کو نور کی مثال بنا کے دکھایا یعنی یہ رحمت خاص جو خدا کے خاص مخصوص بندوں پر نازل ہوتی ہے یہ جب عروج کرتی ہے اور اپنے ارتقاء کو پہنچ جاتی ہے جب یہ معراج کی حالت تک پہنچ جاتی ہے اس وقت محمد رسول اللہ ﷺ کا نور چمک اٹھتا ہے اور وہی نور ہے جو اس حالت کی آخری ترقی کا نام ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی تعریف میں فرماتے ہیں:۔۔۔افراد خاصہ پر فائض ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت و استعداد موجود ہے یعنی نفوس کا ملہ انبیاء علیہم السلام پر جن میں سے افضل و اعلیٰ ذات جامع البرکات حضرت محمد مصطفی ملے وو پس خدا کے بندوں میں سے وہ طبقہ خاص جسے انبیاء کہا جاتا ہے وہ بطور خاص اس نور کے محل بن جاتے ہیں، مورد ہو جاتے ہیں اور ان میں سب سے اوپر اور بالا مقام محمدیت کا مقام ہے جس پر محمدصلی اللہ علیہ وسلم فائز ہوئے۔میں کوشش تو کر رہا ہوں آپ کو سمجھانے کی مگر کئی خطوں سے پتا چلتا ہے کہ بعض لوگوں کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہے۔کئی خطوں سے پتا چلتا ہے کہ ان کے مدتوں کے الجھے ہوئے مسئلے حل ہو گئے اس لئے میں مضمون پر بے شک اور بھی کہتا چلا جاؤں اور جو عجیب لطف کی