خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 846
خطبات طاہر جلد 14 846 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 1995ء اپنے پیارے چڑھالا ؤ، اپنے گھوڑے دوڑ الاؤ۔تمام تر طاقتیں استعمال کرو۔دائیں سے بھی آؤ بائیں سے بھی آؤ۔جہاں سے تم نظر نہیں آتے وہاں سے بھی حملہ آور ہو۔اجازت ہے کہ جو چاہے تمہارے پیچھے چلے، جو چاہے میرے پیچھے آئے۔مگر جو میرے خالص بندے ہیں وہ کبھی تیرے پیچھے نہیں لگیں گے اجازت کے باوجود تیرا، ان پر غلبہ نہیں ہوگا۔یہ تقدیر خیر وشر ہے جو قرآن کریم نے اس ازلی نکتے کے حوالے سے بیان فرمائی ہے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ہر چیز جس کا بھی آپ تصور کر سکتے ہیں وہ نور ہی پر مبنی ہے۔تو مطلب ہے فیض یافتہ ان معنوں میں ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بد حالت بھی قائم نہیں رہ سکتی ، کوئی اندھیرا قائم نہیں رہ سکتا، کوئی گڑھا قائم نہیں رہ سکتا، کوئی نقصان کا موقع پیدا ہو نہیں سکتا مگر ایک اجازت عام ہے جس کے تحت یہ واقعات اور حادثات رونما ہوتے ہیں۔لیکن اس کے علاوہ ایک فیضِ خاص بھی ہے اور اس آیت کے پہلے ٹکڑے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ فیض خاص کی بات شروع ہو گئی ہے۔اب اس کی تفصیل کیا ہے اس ایک تمثیل کی صورت میں ہمارے سامنے رکھا گیا ہے۔فرماتے ہیں۔وو۔۔لیکن بمقابلہ اس کے ایک خاص فیضان بھی ہے جو مشروط بشرائط ہے اور انہی افراد خاصہ پر فائز ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت واستعداد موجود ہے۔۔۔66 یہ جو فیض عام تھا جیسا کہ میں نے دکھا دیا آپ کو، اس میں نیک و بد ، خدا کے بندے مخلص جو خدا کے ہو چکتے ہیں وہ بھی شامل ہیں اور بد بھی شامل ہیں اور اس فیضِ عام کی مثال ایسی بارش کی طرح ہے جو نیک و بد سب پر برابر اترتی ہے۔وہ نعمتیں دنیا کی جن سے بسا اوقات بد زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور نیک کم فائدہ اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں یہ اللہ کا نور ہی تو ہے، یہ ساری نعمتیں۔پس جب بدقو میں بھی زندہ ہیں اور بعض دفعہ طاقتور ہو جاتی ہیں بعض دفعہ انہیں عارضی غلبہ نیک قوموں پر بھی نصیب ہو جاتا ہے تو صاف دکھائی دے دیتا ہے کہ ان کی یہ طاقت، ان کی عیش وعشرت ، ان کا خدا کے انعامات سے فیض پانا اس رحمت عامہ کے نتیجہ میں ہے اور یہ اعتراض نہیں اٹھتا کہ گویا بدی کا خدا