خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 845 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 845

خطبات طاہر جلد 14 845 خطبہ جمعہ 10 نومبر 1995ء جس کے فائز ہونے کے لئے کوئی قابلیت کی شرط نہیں“۔یعنی اس کے لئے کسی قسم کی ذاتی قابلیت کی کوئی شرط نہیں ہے۔بری چیز کا تصور کر لیں، اچھی چیز کا تصور کر لیں جو کچھ بھی ہے وہ خدا کے نور سے فیض یافتہ ہے یعنی جب تک جس حالت میں ہے خدا کے فیصلے کی محتاج اور اسی کی طاقت کی محتاج ہے۔یہ سمجھنے سے شیطان کا وہ سوال بھی سمجھ آ جاتا ہے کہ مجھے قیامت تک مہلت دے۔شیطان کو اتنا عرفان تو تھا کہ خدا کے سہارے کے بغیر اگر وہ مجھے اجازت نہ دے تو میں ایک لمحہ بھی ان بری کارروائیوں کو بھی نہیں کر سکتا جن میں میں ملوث ہونا چاہتا ہوں۔پس قیامت تک شیطان بھی ، اللہ نے اس کو مہلت دی ہے تو وہ کام کرتا ہے ورنہ یہ کام بھی نہیں کر سکتا تھا۔تو اس سے وہ تعلق سمجھ آ گیا جو نیک و بد کا تعلق ہے اور خدا کی ذات میں یہ تعلق کہاں کیسے قائم ہوتے ہیں۔اللہ نیکی چاہتا ہے مگر جب کوئی بد بنتا ہے تو ایک فیصلہ کرتا ہے کہ میں نیکی نہیں چاہتا میں بدی چاہتا ہوں۔اللہ جن چیزوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ چاہیں تو نیک رہنے کا فیصلہ کریں، چاہیں تو بد ر ہنے کا فیصلہ کریں وہ نیک اور بد کی تمیز بھی رکھتی ہیں اور نیک اور بد ہونے کی طاقت بھی رکھتی ہیں لیکن چونکہ خدا کے بغیر نہ ان کی بد حالت قائم رہ سکتی ہے نہ نیک حالت اس لئے نور کا ایک تعلق دونوں سے بن جاتا ہے۔بذات خود خدا سے بدی نہیں پھوٹ سکتی مگر بدی کو مجال نہیں کہ خدا کی اجازت کے بغیر قائم رہ سکے۔پس اجازت کا ہونا نیک و بد کی تقدیر کا حل ہے اور اس کو آپ سمجھ جائیں تو پتا لگے گا کہ خدا سے شہر نہیں پھوٹتا مگر خدا کی اجازت کے بغیر شررہ بھی نہیں سکتا اور چونکہ اجازت سے رہ سکتا ہے اور رہنے اور شرکور رکھنے والا اس فیصلے میں مختار ہے کہ شر کو اختیار کرے یا نیکی کو اختیار کرے اس لئے جزا سزا کا حکم جاری ہو جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے شیطان کے اس مکالمہ کو محفوظ کر کے ہمیشہ کے لئے ہمارے سامنے یہ مسئلہ کھول دیا کہ شیطان بھی میری اجازت کے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔میں نے اجازت دی اور یہ بھی کہا کہ اپنے بندوں کو بھی اجازت دیتا ہوں کہ چاہیں تو تیری پیروی کریں، چاہیں تو میری پیروی کریں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے عام ہونے کا ایک حیرت انگیز نظارہ ہے۔شیطان کو اجازت دے کر بندوں کو یہ نہیں کہا کہ تمہیں بالکل اجازت ہی نہیں ہے۔تم اس کی طرف جاہی نہیں سکتے۔جو اجازت دی وہ واپس لے لیتا دوسرے ہاتھ سے فرمایا تم فکر نہ کرو تم جوزور لگانا ہے لگاؤ۔