خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 772

خطبات طاہر جلد 14 772 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء اس مکان پر قرار پکڑنا جو اس کے مناسب حال ہوجیسا کہ قرآن شریف میں بھی آیت ہے وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِي ( صور : 45) ( یعنی حضرت نوح کی کشتی نے پھر جودی پر قرار پکڑا یعنی جو مناسب اس کی بہترین جگہ تھی اتر نے کی وہاں وہ کشتی کھڑی ہوئی ہے )۔یعنی نوح کی کشتی نے طوفان کے بعد ایسی جگہ پر قرار پکڑ ا جو اس کے مناسب حال تھا۔یعنی اس جگہ زمین پر اترنے کے لئے بہت آسانی تھی۔سواسی لحاظ سے خدا تعالیٰ کے لئے استواء کا لفظ اختیار کیا یعنی خدا نے ایسی وراء الوراء جگہ پر قرار پکڑا جو اس کی تنزہ اور تقدس کے مناسب حال تھی۔چونکہ تنزہ اور تقدس کا مقام ماسوی اللہ کے فنا کو چاہتا ہے سو یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسے خدا بعض اوقات اپنی خالقیت کے اسم کے نقاضا سے مخلوقات کو پیدا کرتا ہے پھر دوسری مرتبہ اپنے تنزہ اور وحدت ذاتی کے تقاضا سے ان سب کا نقش ہستی مٹا دیتا ہے۔غرض عرش پر قرار پکڑ نا مقام تنزہ کی طرف اشارہ ہے تا ایسا نہ ہو کہ خدا اور مخلوق کو باہم مخلوط سمجھا جائے پس کہاں سے معلوم ہوا کہ خدا عرش پر یعنی اس وراء الوراء مقام پر مقید کی طرح ہے اور محدود ہے۔قرآن شریف میں تو جابجا بیان فرمایا گیا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔66 (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ : 119) یہ چونکہ عبارت بعض دوستوں کے لئے جن کو زیادہ عبور نہیں ہے زبان پر زیادہ توجہ اور غور سے اس کلام کو نہیں سن سکے، سمجھنا مشکل ہوگی۔اس لئے میں اس کی کچھ تشریح آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جب زمین و آسمان کو پیدا کیا، چھ دن سے مراد چھ دن نہیں بلکہ بہت لمبے زمانے ہیں، ان زمانوں میں جب پیدا فرما دیا تو تخلیق سے وہ ہم آہنگ بھی ہوا اور اس کی صفات ہی سے یہ تخلیق ہوئی ہے۔مبادا بعد میں کوئی یہ سمجھے کہ خدا اور تخلیق ایک ہی چیز کے دو نام ہیں جیسا کہ بعض مذاہب اس بات پر پیدا ہوئے جو صوفیوں میں ہمہ اوست کہلائے اور باہر کی دوسری دنیا میں Pantheism سے بعض مذاہب بنے۔ان کا خیال تھا کہ خدا نے چونکہ پیدا کیا ہے اور صفات سے پیدا کیا ہے اور ہر چیز اپنی صفات سے الگ نہیں ہو سکتی اس لئے اگر ساری