خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 773 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 773

خطبات طاہر جلد 14 773 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء کائنات صفات باری تعالی ہی کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے اور وہی صفات اس میں جلوہ گر ہیں تو وہی خدا ہیں کیونکہ صفات موصوف سے الگ نہیں ہو سکتیں۔یہ منطقی دلیل قائم کر کے صوفیاء میں ہمہ اوست کا عقیدہ جاگزیں ہوا اور دوسری دنیاؤں میں اس نام کے مذاہب بن گئے کہ وہی وہی ہے گویا مخلوق کوئی چیز نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا یہ کمال ہے اور اس کے عرفان کی یہ شان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف تخلیق کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ تخلیق سے جدا ہونے کا ذکر بھی فرما دیا۔پیدا کیا لیکن مل جل نہیں گیا۔پھر وہ جدا ہوا اور اس مقام تنزہ پر عروج کیا جو اس کو ہر خلق سے بالا اور پاک اور صاف دکھاتا ہے۔بلکہ وہ ایسا مقام ہے جو مخلوق کی نظر سے بھی بالا تر ہو جاتا ہے۔پس تخلیق کے رستے سے تشبیہی صفات کا ہم نظارہ کرتے ہیں اور جب تخلیق سے جدا ہو کر اللہ تعالیٰ اپنی ایسی شان میں جلوہ گر ہو کہ وہ اس میں تخلیق کا عنصر شامل نہ ہو، وہ صفات تنزیہی صفات کہلاتی ہیں اور انہی کا نام اس Context میں، ان عبارتوں میں ، جن میں تخلیق کائنات کا ذکر ہے عرش مراد ہے۔ان آیات میں جہاں تخلیق کائنات کا ذکر ہے عرش پر مستوی ہونے یا قرار پکڑنے سے یہی مراد ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرما رہے ہیں کہ وہ تنزیہی صفات ہیں جو تخلیقی صفات سے خدا تعالیٰ کو الگ کر کے دکھاتی ہیں تاکہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی صفات کی جلوہ گری سے شرک میں مبتلا نہ ہو جائے اور مخلوق ہی کو خالق نہ سمجھ بیٹھے۔ایک یہ معنی ہے۔دوسرا معنی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے یعنی اسی معنے کی اول تو مختلف تشریحات فرمائی ہیں۔پھر وہ معنی بھی کیا ہے جو میں آپ کے سامنے پہلے پیش کر چکا ہوں۔وہ دل ہے اور مرد کامل اور دل ہے جس کو عرش قرار دیا جا سکتا ہے۔میں نے جو یہ استنباط کیا اس کی بڑی وجہ پانی پر قرار تھا۔اللہ تعالیٰ نے تخلیق کائنات کے ساتھ جو یہ ذکر فر ما دیا وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ خدا کا عرش پانی پر تھا۔تو پانی پر عرش سے مراد کیا ہے؟ دوسری جگہ اللہ فرماتا ہے وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيَّ ( الانبياء: 31)۔خدا نے پانی ہی سے ہر چیز کو پیدا : کیا ہے۔پس پانی سے زندگی کا تعلق ہے اور زندگی کا شعور سے تعلق ہے۔شعور کے بغیر خدا دکھائی ہی نہیں دے سکتا۔پس باشعور طور پر خدا کے وجود کا احساس زندگی پر منحصر ہے اور عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ -