خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 771 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 771

خطبات طاہر جلد 14 771 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء چاہئے تھی کہ دائیاں ہاتھ اگر پانی سے مراد ظاہری پانی ہے تو پھر دایاں ہاتھ سے مراد دایاں ہاتھ ہی لینا پڑے گا اور جس اللہ کا بدن ہو گیا اس کا دایاں ہاتھ ہو گیا، اس کا بایاں ہاتھ ہو گیا اس کا وجود ہی جاتا رہا۔وہ بھی قصہ اور پانی بھی قصہ مگر بخاری کی حدیث دیکھیں کیسی نور پر بنی حدیث ہے بالکل واضح اور قطعی اور قرآن کے مزاج کے مطابق ہے۔پھر حضرت ابن عباس سے بخاری ہی میں مروی ہے کہ آنحضرت مو غم اور پریشانی کے وقت ان الفاظ میں دعا کیا کرتے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عظمت والا اور بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو عظمت والے عرش کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور بزرگی والے عرش کا رب ہے ( صحیح بخاری کتاب التوحید باب تعرج الملائكة والروح لیہ )۔اب میں آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حوالوں سے سمجھا تا ہوں کہ یہ اصطلاح کیا معنی رکھتی ہے اور اللہ کے نور سے دیکھنے والے امام زمانہ نے ہمیں کیا بتایا کہ عرش کیا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- عرش کا کلمہ خدا تعالیٰ کی عظمت کے لئے آتا ہے کیونکہ وہ سب اونچوں سے زیادہ اونچا اور جلال رکھتا ہے۔یہ نہیں کہ وہ کسی انسان کی طرح کسی تخت کا محتاج ہے۔خود قرآن میں ہے کہ ہر ایک چیز کو اس نے تھاما ہوا ہے اور وہ قیوم ہے جس کو کسی چیز کا سہارا نہیں“۔(الاستفتاء روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 117-116) پس ہر مزعومہ حدیث جو قرآن کریم میں صفات باری تعالیٰ سے ٹکراتی دکھائی دے وہ کسی قیمت پر بھی آنحضرت ﷺ کا کلام نہیں ہوسکتا۔جو اس کو کہے گا وہ گستاخی کا موجب ہوگا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پھر عرش پر قرار پکڑا یعنی اول اس نے اس تمام دنیا کے تمام اجرام سماوی اور ارضی کو پیدا کیا اور چھ دن میں سب کو بنایا۔( چھ دن سے مراد ایک بڑا زمانہ ہے ) اور پھر عرش پر قرار پکڑ ا یعنی تنزہ کے مقام کو اختیار کیا۔یادر ہے کہ استویٰ کے لفظ کا جب علی پر صلہ آتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ ایک چیز کا