خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 768 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 768

خطبات طاہر جلد 14 768 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء بس یہ کلام ہے جو اس کی زبان سے جاری وساری ہے تو پاک ہے، تو کہاں تھا ، تو کہاں ہو گا۔یہ جو تصورات ہیں ان ظلمات سے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور امام مہدی نے اللہ کے نور سے نجات بخشی ہے۔وہ نور عطا کیا جو خدا کے نور کے تصور کے لئے لازم تھا کیونکہ آنکھ نور کی طرح ہے جس کے بغیر آسمان کا نور دکھائی نہیں دے سکتا۔جب تک عقلوں کو جلا نہ ملے ، جب تک عقلوں کو نور نہ عطا ہو آسمان کا نور بالکل بے کار اور بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ اندھا سورج کی روشنی کو دیکھ نہیں سکتا۔اس لئے اپنی ذات میں تو وہ معنے نہیں کھوتا لیکن ہر اس شخص کے لئے بے معنی ہو جاتا ہے جو آنکھ کے نور سے یا اپنے فطری نور سے محروم ہو۔پس اس قسم کے لوگوں نے اسلام کو دیکھا، اسلام کو بدنام کیا، ایسی تفسیروں میں یہ قصے راہ پاگئے جنہوں نے امت محمدیہ کو قصوں، کہانیوں کی امت بنا دیا۔پس اب میں آپ کو دو احادیث صحیحہ جو بخاری سے لی گئی ہیں ان کے حوالے سے عرش کا تصور بتاتا ہوں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر جو روشنی ڈالی ہے اس کے متعلق کچھ کہوں گا۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ قرآن کریم میں فرشتوں کے عرش کو اٹھانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔بعض لوگ تعجب کریں گے کیونکہ تفسیر صغیر میں بھی بعض آیات کے ترجمے میں فرشتوں کے اٹھانے کا ذکر ملتا ہے۔مگر جب اصل آیات دیکھیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ عبارتیں جو میں آپ کو پڑھ کے سناؤں گا ان پر غور کریں اور قرآن کریم کے جو حوالے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دیئے ہیں ان کو دیکھیں تو یہ ترجمہ درست دکھائی نہیں دیتا۔یا معنوی ہے جس کو ہم سمجھ نہیں سکے۔کوئی تفسیری محاورہ استعمال کیا گیا ہے اور حضرت مصلح موعودؓ بعض دفعہ ایسے ترجمے کرتے ہیں جن کا معنی آپ کو تو علم ہے لیکن پڑھنے والا اس سے کچھ اور اخذ کرسکتا ہے کیونکہ تفسیر صغیر خصوصیت سے چونکہ بیماری کے ایام میں لکھی گئی تھی اور اس کو خود براہ راست آپ کو دوسری تیسری دفعہ دہرانے کا موقع نہیں ملا۔اس لئے ایسی چیزوں کا وہاں پایا جانا ہرگز بعید از قیاس نہیں لیکن حضرت مصلح موعودؓ کا ایک مقام ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک مقام ہے اور آنحضرت ﷺ کا ایک مقام ہے اور قرآن کا ایک مقام ہے۔ان مقامات کے دائرے میں ہمیں نچلے مقام کو اوپر کے مقام پر فضلیت دینے کا ہرگز کوئی حق نہیں ہے۔جو چاہے میرے اس اعلان پر اعتراض کرے مجھے خوشی سے قبول ہے مگر اگر مضمون نکرا تا ہوا دکھائی دے تو ادنیٰ مقام پر اعلیٰ مقام ضرور حاوی ہوگا اور لیکن اس کا یہ ہرگز