خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 767 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 767

خطبات طاہر جلد 14 767 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء خدا سے تائید یافتہ مہدی کیا چیز ہے اور یہ علماء جن من گھڑت قصوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ان کی کیا حیثیت ہے۔وہ کہتے ہیں وہ خوف میں ہیں اور سارے اپنے نچلے والوں سے ڈر رہے ہیں بڑا سخت۔اور عرش پھاڑ کر اس بے چارے کا تو رہنے ہی کچھ نہیں دیا ، عرش کو تو پارہ پارہ کر دیا انہوں نے کسی چیز کو آپ پتلی تختی ہو یا کاغذ ہو کیلوں کے اوپر یوں گاڑ دیں جس طرح کیل باہر نکل آتے ہیں کہتے ہیں اس طرح ان فرشتوں کے سر عرش سے باہر آئے ہوئے ہیں۔اور در منثور ہی کا ایک اور کمال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے ، صحابہ ذکر کی مجلس میں تھے۔آپ نے فرمایا میں نہ تمہیں بتاؤں اللہ تعالیٰ کی شان کی باتیں۔تو انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ آپ بتا ئیں تو آپ نے فرمایا عرش اٹھانے والوں میں ایک فرشتہ ہے جسے اسرافیل کہتے ہیں ، عرش کے کناروں میں سے ایک کنارہ اس کے کندھے پر ہے۔اس کے قدم ساتویں زمین کی تہہ کو پار کر گئے ہیں۔یعنی نیچے لٹک رہے ہیں قدم اور سر ساتوں آسمان کو پار کر گیا ہے اور یہ بھی تمہارے رب کی مخلوق میں سے ہے ( ابوالشیخ بحوالہ درمنثور ،سورہ المومن زیر آیت (۸)۔مخلوق لفظ نے ، باقی کہانی تو ویسے ہی لغو تھی مگر لفظ مخلوق نے تو اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیا۔تو جب تک خدا کا عرش نصیب نہیں ہوا جب تک یہ مخلوق پیدا نہ ہوئی کیونکہ عرش پر قرار اس کا دائمی قرار ہونا چاہئے مگر جو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ مخلوق ہیں۔پس اگر وہ مخلوق ہیں تو ازل سے خدا بغیر عرش کے تھا جب تک یہ مخلوق پیدا نہ ہوئی اور ازل ایک ایسی چیز ہے جس کی انتہا کوئی نہیں اس کے دوسری طرف جتنا بھی آپ چلتے جائیں کوئی کنارہ ہی نہیں ہے۔تو خدا ابد میں رہے تو رہے، ازل میں تو باقی نہیں رہتا پھر۔غرضیکہ یہ وہ تصور عرش ہے جو ان کے تصورات کی انتہائی چھلانگ ہے۔اور ایک اور در منثور کی حدیث سن لیجئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اجازت دی گئی ہے اب کہ میں ایک ایسے فرشتے کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں ساتویں زمین کو بھی پار کر گئے ہیں اور عرش اس کے کندھوں پر ہے۔یہاں تضاد جو ہے دوسری حدیث سے واضح ہے وہاں سر بھی پار کر گیا تھا لیکن یہاں عرش اس کے کندھوں پر ہے اور وہ اکیلا ہی ہے۔وہ کہتا ہے تو پاک ہے، تو کہاں تھا، تو کہاں ہوگا۔(ابو یعلی وابن مردویہ بحواله در منتو السیوطی سورہ المومن زیر آیت ۸)۔